سیرت احمد — Page 131
249 248 صاحبہ کو بھی بشارت دی اور مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم کو بھی بشارت دی کہ قدرت اللہ کو ایک عالی دماغ لڑکا دیا جاوے گا۔چنانچہ مسعود احمد صاحب بفضلہ تعالیٰ زندہ سلامت ہے اور انہوں نے مزید ترقی کی ہے۔اور سلسلہ کی بڑی بڑی خدمات کر رہے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کا ا۔اکتوبر ۱۹۰۴ء کا الہام تھا کہ قدرت اللہ کی بیوی روپوں کی ڈھیری پیش کرتی ہیں جس میں ایک لکڑی بھی ہے۔جس کو بر خوردار نے دو ہزار روپیہ نقد بشکل تھیلی کے اپنی والدہ صاحبہ کے ذریعہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے روبرو پیش کر کے الہام کو پورا کیا۔جس کا ذکر رسالہ الفرقان اور رسالہ ریویو میں موجود ہے۔اور سات ہزار روپیہ کے خرچ سے ہم دونوں کو ۵۸ء میں حج کرایا۔اور کراچی محلہ ناظم آباد میں ساڑھے سات ہزار روپیہ کی اراضی مسجد کے واسطے ہمارے نام سے خرید کر کے سلسلہ کے حوالہ کر دی۔اور گولیمار کی مسجد کے ساتھ ایک ہال ۱۹۰۰ روپیہ میں خرید کر کے مسجد کے ساتھ شامل ہونے کو ہمارے نام سے وقف کر دیا۔اور حضرت مسیح موعود کی کتب کے ۱۲ سیٹ ہمارے اور اپنی اولاد کے لئے خرید کئے جو ۱۶۰ روپیہ فی سیٹ خرید کئے۔اور ۳ اسیٹ کتب ہائے مذکور کے غیر ممالک کے واسطے خرید کئے۔وہ ہر چندہ میں خدا کے فضل سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اس کے بعد برخوردار داؤ د احمد پیدا ہوئے۔والد صاحب کو ۱۹۰۴ء میں طاعون ہوئی۔ایسا سخت حملہ تھا کہ مجھے شک تھا کہ فوت ہو جائیں گے۔مگر اس حالت میں والد صاحب نے بتایا کہ میں فوت نہیں ہونگا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ تم قدرت اللہ کے دولڑ کے دیکھ کر وفات پاؤ گے۔چنانچہ جب ۱۹۲۳ء میں مسعود احمد پیدا ہوا اور ۱۹۲۵ء میں داؤ د احمد پیدا ہوا تو والد صاحب نے ان کی پیدائش پر فرمایا کہ یہ دو لڑکے ہیں جو میں نے کہے تھے۔اور فرمایا۔مسعود احمد صاحب کے ساتھ داؤ د احمد کو چلتے پھرتے دیکھا تھا۔چنانچہ ۱۹۲۷ء میں والد صاحب بمقام سنور فوت ہوئے اور نعش مبارک بذریعہ لاری قادیان پہنچائی گئی اور آپ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔داؤ د احمد کے بعد ایک لڑکا پیدا ہو کر دو سال کے قریب عمرپا کر فوت ہوا۔اس کے بعد برخوردار نعمت اللہ پیدا ہوا۔اس کے بعد لڑکی میمونہ پیدا ہوئی جو چھوٹی سی فوت ہوئی۔اس کے بعد امینہ بیگم پیدا ہوئی جو آخری بچی ہے۔حضرت اقدس اس کو گھر وڈی کہہ کر بلایا کرتے رہے ہیں۔اور فرمایا کرتے رہے ہیں کہ تم مولوی صاحب کی آخری بیٹی ہو۔پیٹ گھر و ڑ کر آئی ہیں۔