سیرت احمد — Page 13
13 12 بجے ایک دلیل سینہ میں آئی اور اس وقت چاہا کہ اس کو دوسروں تک پہنچاؤں۔حضرت ام المومنین نے کہا۔آپ رات کو بارہ بجے دلیل وفات مسیح سناتے ہیں۔صبح کو سنا دیں۔آپ نے فرمایا۔نہیں معلوم صبح تک کیا ہو دیکھو تو سہی یہ کیا عمدہ دلیل وفات مسیح پر ہے۔روایات ۷ حضرت میاں چراغ الدین صاحب لاہوری میرالڑ کا عبد المجید بیمار تھا اور ایسا سخت بیمارا ہوا کہ حکیموں اور ڈاکٹروں نے لاعلاج بتایا اور اس کی شادی میں پندرہ دن باقی تھے۔مجھے سخت صدمہ ہوا۔میں نے گھبرا کر حضرت صاحب کے پاس دعا کے لئے بذریعہ خط التجا کی۔آپ نے فوراجواب لکھا کہ میں نے تمہارے خط کے آنے پر بہت دعا کی اور وہ دعا قبول ہو گئی اللہ تعالی کی شان کہ دو دن کے اندر مرض بالکل جاتی رہی لڑکا راضی ہو گیا۔اب تک خدا کے فضل سے زندہ ہے۔ایک دفعہ میں قادیان آیا۔دو چار دن کے بعد جب جانے لگا تو میں نے سوچا اگر آج نہ جاؤں تو کل دفتر میں دس بجے کے بجائے بارہ بجے حاضر ہو جاؤں گا اور صبح نو بجے کی گاڑی سے چلا جاؤں گا۔آج کی رات اور فیض صحبت اٹھاؤں۔چنانچہ ٹھہر گیا۔صبح کو چھ بجے حضرت صاحب سیر کے لئے نکلے۔میں نے اجازت چاہی۔آپ نے دعا فرمائی اور اجازت دی۔جب میں چلنے لگا۔فرمایا منشی صاحب ابھی وقت ہے۔آؤ سیر کو چلیں۔میں ساتھ ہو گیا۔اڑھائی گھنٹہ کے بعد جب سیر سے واپس آئے۔مصافحہ کیا اور فرمایا۔جاؤ اجازت ہے۔میں نے کچھ نہ کہا۔اور چپکا ہو کر چلا آیا۔یکہ کیا۔گیارہ بجے بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچا کیا دیکھتا ہوں۔گھنٹی بج رہی ہے۔میں نے پوچھا یہ کس گاڑی کی گھنٹی ہے۔لوگوں نے کہا لا ہو ر جانے والی گاڑی آج دو گھنٹہ لیٹ تھی، وہ آوے گی، میں نے ٹکٹ لیا۔سوار ہو کر آرام سے لاہور پہنچا۔ایک دن سیر میں میں حضور کے ساتھ تھا۔فرمایا منشی صاحب بہت عرصہ ملازمت کر لی ہے۔اب بہتر ہے پنشن لے لو اور قادیان آجاؤ۔میں نے عرض کیا بہتر ہے۔کل ہی جا کر درخواست دے دوں گا۔آپ نے فرمایا۔نہیں اتنی جلدی نہیں دو تین ماہ تک لے لینا۔میں نے کہا اچھا یہ کہہ کر میرے دل میں فکر ہو گیا کہ یا الہی میں سلسلہ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔کوئی مضمون میں نہیں لکھ سکتا۔واعظ میں نہیں۔میرے یہاں آنے سے کیا ہو گا۔میں ایسا کم علم ہوں گویا نفی کے برابر۔مجھ ایسے انسان کی یہاں کیا ضرورت ہے۔میں یہ بات سوچ رہا تھا۔اور ذرا پیچھے ہو گیا تھا۔میں پھر ہمت کر کے جلدی جلدی چل کر حضور کے برابر ہو گیا۔میں دائیں طرف تھا مولوی محمد احسن صاحب بائیں طرف۔آپ نے مولوی محمد احسن سے مخاطب ہو کر فرمایا۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔ہم امی ہیں قادیان میں جا کر کیا کریں گے۔وہ نہیں جانتے کہ آنحضرت " بھی امی ہی تھے۔خداوند تعالٰی نے تمام علوم کو حضور کے قدموں کے نیچے ڈال دیا۔اور فصاحت و بلاغت حضور پر ختم ہوئی، وہ کتاب لائے اور وہ معارف سکھائے جس سے جہان کے علماء دنگ رہ گئے۔یہ خیال درست نہیں کہ کوئی کہے میں امی