سیرت احمد

by Other Authors

Page 129 of 131

سیرت احمد — Page 129

245 244 انصار اللہ کے سالانہ اجتماع میں سیدی مرزا ناصر احمد صاحب نے مجھے فرمایا کہ نماز مغرب و عشاء آپ پڑھا ئیں۔آپ کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے دونوں نمازیں پڑھا ئیں۔اور آپ عین میرے پیچھے صف اول میں تھے یہ خواب میں نے اس اجتماع سے قبل مولوی عبد المالک خانصاحب (کراچی) عزیزم مسعود احمد خورشید وغیرہ کئی دوستوں کو سنائی تھی) آخر ستمبر ۵۸ء میں خواب میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے ملاقات ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ آپ کے ساڑھے چار بیٹوں کے لئے لنگر میں کھانے کا انتظام کر دیا ہے۔وہاں سے روٹیاں لے لیں۔میں نے ارادہ کیا کہ میں لنگر میں جاؤں۔کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ ابھی لنگر میں تقسیم شروع نہیں ہوئی ہے۔کچھ دیر کو شروع ہوگی۔میں نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ رعب عطا فرمایا ہے کہ جب میں جاؤں گا تو وہ فور آروٹیاں دیں گے۔چنانچہ میں لنگر میں گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تقسیم شروع نہیں ہوئی۔میں نے کہا کہ آپ کو حضرت صاحب نے حکم نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ حکم کیا حضور تو آپ کا راگ گاتے رہے ہیں آپ روٹیاں لے جائیں۔میرے پاس کپڑا کوئی نہیں تھا۔میں نے لنگر کی دیواروں پر ہرن کی کھال لٹکی ہوئی دیکھی اور وہ کمرے کے ساتھ لگا کر لنگر والوں کو کہا کہ وہ نو افراد کے لئے کھانا دے دیں۔چنانچہ انہوں نے مجھے بہت سی روٹیاں دے دیں۔اولاد پہلی بار لڑکا پیدا ہوا۔اس کا نام برکت کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت پر محمود احمد رکھا۔وہ لڑکا آٹھ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا۔میں ملازمت پر تھا۔میری اہلیہ نے نہایت صبر کیا۔محلہ کی عورتیں آکر سابقہ دستور کے مطابق جزع فزع کرنے لگیں۔تو انہوں نے منع کیا۔محلہ میں اس کا شور ہوا کہ قدرت اللہ کی بیوی بیٹے کی وفات پر ہم کو رونے نہیں دیتی ہے۔اس کے بعد لڑکی محمودہ بیگم پیدا ہوئی۔اس کے بعد مسعودہ بیگم پیدا ہوئی۔اس کے بعد حمیدہ بیگم پیدا ہوئی۔یہ لڑکی قادیان میں پیدا ہوئی۔اس کی پیدائش سے چند یوم پہلے مجھے خواب میں بتایا گیا کہ مریم کے رنگ کی لڑکی پیدا ہوگی۔چنانچہ بفضلہ تعالیٰ وہ زندہ سلامت موجود ہے اور اس میں مریمی رنگ ہے۔اس کے بعد سعیدہ بیگم پیدا ہوئی جو ۶ اسال کی عمر میں فوت ہو گئی۔چونکہ موصیہ تھیں اس لئے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئی۔اس لڑکی کی وصیت کا جھگڑا ہوا۔یہ اپنے سسرال سے قادیان میری ہمشیرہ کے پاس آئی۔اور وصیت کر دی۔اور فارم پر کر کے ہمشیرہ کو دے دیا خود سنور چلی گئی۔وہاں جا کر بیمار ہو کر فوت ہو گئی۔مجھے یہ علم تھا کہ یہ وصیت کر آئی ہے۔میں نے نعش کو صندوق میں امانتا دفن کرایا۔چھ سات ماہ بعد اس کی نعش کو قادیان لایا۔جب افسر بہشتی مقبرہ سے عرض کیا تو انہوں نے دفتر سے معلوم کر کے فرمایا اس کی وصیت درج نہیں۔گھر سے معلوم کیا۔تو ہمشیرہ نے فرمایا کہ فارم گھر میں ہی پڑا ہے۔سید سرور شاہ صاحب مرحوم کو فارم دکھلایا تو انہوں نے !