سیرت احمد

by Other Authors

Page 120 of 131

سیرت احمد — Page 120

227 226 ہم وہی کھائیں گے۔پھر حضور نے فرمایا ایک دیگ زردے کی اور ایک دیگ پلاؤ کی پکوا کر وہاں بھجوا دی جائے۔حضور یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد کوئی دوست حضرت صاحب سے ملنے کے لئے آیا۔اس نے زینے میں کھڑے ہو کر دستک دی۔خادمہ نے اطلاع دی اور حضور تشریف لے آئے۔وہ دوست زینے میں کھڑے اور حضور اندر صحن میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔اتنے میں نیچے سے میر ناصر نواب صاحب تشریف لے آئے۔جب وہ اوپر کی سیڑھی پر پہنچے تو حضرت صاحب نے دریافت کیا کہ میر صاحب فنانشل کمشنر صاحب کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔میر صاحب نے فرمایا کہ وہ (منتظم) ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ابھی تو کچھ نہیں ہوا۔حضور نے مکر رسہ کرر فرمایا کہ وہاں صرف ایک دیگ زردے کی اور ایک دیگ پلاؤ کی جانی تھی۔اب تک چلی جانی چاہئے تھی۔میر صاحب یہی کہتے رہے کہ منتظمین نے ابھی کچھ انتظام نہیں کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود کے چہرے پر سرخی نمودار ہوئی اور آپ نے آنکھیں ذرا اوپر اٹھاتے ہوئے زور سے کہا کہ میں حکم دیتا ہوں اور آپ کو حکم دیتا ہوں۔ابھی لنگر میں جاکر ایک دیگ زردے کی اور ایک دیگ پلاؤ کی وہاں بھجوا دیں۔میر صاحب نے یہ سن کر عرض کیا۔حضور بہت اچھا۔اور فورا لنگر خانے چلے گئے۔اور کھانا تیار کر کے بھجوا دیا۔۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء میں میں مال (بندوبست) کے محکمے میں ملازم ہوا۔ریاست پٹیالے میں قانونی بندو بست پہلے ہی تھا اس واسطے زمیندار لوگ مربع بندی کے وقت ہی یہ سمجھ کر کہ ہم اپنا رقبہ زیادہ لکھالیں ، افسران بندو بست کو رشوت دیتے تھے۔میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور اس وقت رشوت کا بہت زور ہے۔لوگ بہت روپیہ دیتے ہیں۔حضور اگر اجازت فرمائیں تو میں ملازمت ترک کردوں۔اس خوف سے کہ میں بھی کہیں اس مارکیٹ میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔تو حضور نے جوابا مجھے لکھوایا کہ ترک ملازمت معصیت ہے۔دوسری جگہ کوشش کرتے رہیں۔کسی دوسری جگہ ملازمت ملنے پر ملازمت ترک کی جا سکتی ہے۔لیکن یہ خیال رہے کہ کوئی نابینا قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکتا کہ یا الہی میں نے تمام عمر بد نظری کبھی نہیں کی۔کوئی محنت قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے بد فعلی نہیں کی۔کوئی بہرہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کسی کی غیبت نہیں سنی۔انسان کا تقویٰ یہی ہے کہ وہ باوجود ہر قسم کے کوائف صحیح ہونے کے خرائب سے اجتناب کرے۔جب ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباہلہ حضور نے شائع کیا۔گو اس نے اس کا انکار کر دیا۔لیکن مجھے اس کا علم نہیں تھا۔میں نے ایک نظم لکھ کر حضور کی خدمت میں بھیجی جس کے جواب میں حضور نے یہ تحریر فرمایا۔نظم اچھی ہے مگر اس کو اخبار میں شائع ہونے کے لئے نہیں دیا۔بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ اس نے مباہلے سے انکار ہی کر دیا تھا۔تو مجھے سمجھ آئی کہ اس نظم کا شائع ہو نا مناسب ہی نہیں تھا۔کیونکہ اس میں دو شعر مجھے یاد ہیں یہ تھے۔تو تو ہے عمر میں جوان ابھی پیری آئی ہے میرے آقا۔i۔¦