سیرت احمد

by Other Authors

Page 119 of 131

سیرت احمد — Page 119

225 224 فرمایا کہ اچھا انکو میری طرف سے خط لکھوا دیں کہ خود اپنی بیوی کو آکر لے جا۔اس پر چوہدری صاحب نے مجھے خط لکھ دیا۔اور میں قادیان شریف آیا۔دو تین دن قیام کر کے میں واپس جانا چاہتا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود سے اجازت چاہی۔حضور نے فرمایا فنانشل کمشنر پنجاب معہ چند افسروں کے قادیان آرہے ہیں۔ہم نے باہر کی جماعتوں سے چیدہ چیدہ دوستوں کو بلوایا ہے۔آپ آئے ہوئے ہیں ٹھہر جائیں۔چنانچہ میں ٹھہر گیا۔جس دن فنانشل کمشنر صاحب نے وہاں آنا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے حضور سے مسجد میں آکر عرض کیا کہ ان کے استقبال کے لئے آگے جانا چاہئے۔آپ نے فرمایا چار پانچ آدمی آپ ساتھ لے لیں اور اور ان کا استقبال کریں۔میں استقبال کے لئے نہیں جاؤں گا۔چنانچہ خواجہ صاحب اور جماعت کے چند اور احباب استقبال کے لئے گئے اور فنانشل کمشنر کو لا کر کیمپ میں ٹھہرا دیا۔اس کے بعد خواجہ صاحب مسجد میں تشریف لائے اور حضور کی خدمت میں اطلاع عرض کی گئی۔اس پر حضور مسجد میں تشریف لے آئے جو جو گفتگو فنانشل کمشنر سے ہوئی تھی خواجہ صاحب نے حضور کو سنائی۔اور اس کے بعد یہ عرض کیا کہ فنانشل کمشنر صاحب کو مع دیگر افسران کے حضور کی طرف سے دعوت دی گئی ہے جو انہوں نے منظور کرلی ہے۔اس پر حضور نے دریافت فرمایا۔ان کی دعوت کا کیا انتظام ہو گا۔خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ افسران کے عہدے کے لحاظ سے راشن پیش کیا جاتا ہے۔اور تحصیلدار صاحب کے واسطے اس قدر راشن اور افسر مال i کے لئے اس قدر اور ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اور فنانشل کمشنر کے لئے اس قدر۔اور اس کی تفصیل بتاتے وقت ہر افسر کے راشن کے بعد وغیرہ وغیرہ کا لفظ فرما دیتے تھے۔حضور نے دریافت فرمایا کہ راشن تو آپ بیان کرتے جاتے ہیں۔لیکن یہ وغیرہ وغیرہ کیا؟ خواجہ صاحب نے کہا کہ حضور گورنمنٹ کا قاعدہ ہے وہ سب کچھ ہے۔(در اصل وہسکی وغیرہ وغیرہ سے مراد تھی جس کو خواجہ صاحب ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے) حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام کیا ہوا ہے۔يَنْقَطِعُ أَبَائِكَ وَيُبْدَأُ مِنْكَ - تو فرمایا کہ اب یہ سلسلہ چونکہ مجھ سے شروع ہوتا ہے۔اور یہ فقیر کا لنگر ہے۔اس سے تو پکا پکا یا کھانا ملے گا۔آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر وہ پکا پکایا کھانا کھانا چاہتے ہیں تو کھالیں وگرنہ ہمیں ضرورت نہیں۔خواجہ صاحب نے عرض کیا۔کہ حضور اب تو دعوت ہو چکی ہے۔اب وہ خواہ مخواہ ناراض ہونگے۔حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ ان کو حکومت عطا فرمائی ہے اس واسطے میں عزت کرتا ہوں۔اگر وہ ناراض ہوں تو مجھے ان حشرات الارض کی کچھ پرواہ نہیں۔خواجہ صاحب خاموش ہو گئے۔حضور نے مجلس میں سے ایک شخص کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ وہاں جائیں اور فنانشل کمشنر صاحب کو میری طرف سے کہدیں کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ ہم راشن وغیرہ نہیں بھیجیں گے۔ہم کھانا پکوا کے بھجوائیں گے۔اگر آپ چاہیں تو بھجوائیں وگر نہ رہنے دیں گے۔چنانچہ وہ دوست اس وقت چلے گئے۔اور واپس آکر عرض کیا کہ فنانشل کمشنر کہتے ہیں کہ جو کھانا آپ بھجوائیں گے۔1