سیرت احمد — Page 110
207 206 میری مختصر سوانح حیات حسب درخواست امین اللہ خان صاحب سالک حال مبلغ امریکہ ولد عبدالمجید خان صاحب ویرووال مندرجہ تحت حالات لکھاتا ہوں۔جہاں تک حافظہ مدد دیتا ہے۔اس کی خدمت میں قادیان آتے جاتے تھے۔چنانچہ ان کی درخواست پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انبالہ چھاؤنی سے ہوتے ہوئے براستہ راجپورہ اور پٹیالہ سنور تشریف لے گئے تھے اور پٹیالہ سٹیشن سے اتر کر خلیفہ محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی بگھی میں سوار ہو کر سنور پہنچے۔میرے والد صاحب فرماتے تھے کہ حضرت صاحب کی تشریف آوری کی چونکہ پہلے سے اطلاع تھی۔اس لئے محلہ کے بہت سے لوگ قصبہ کے باہر کے مطابق حالات بیان کرتا ہوں لکھنے والے پڑھنے والوں کو اللہ تعالی ان برکات کا وارث کرے جو بوجہ بیعت حضرت مسیح موعود حاصل ہوئی ہیں۔جمع تھے۔جب حضور کی بگھی کی وہاں پہنچی۔اور وہاں حضور نے ایک مجمع اور اللہ تعالیٰ ان کمزوریوں سے محفوظ رکھے جو بوجہ بشریت انسان سے دیکھا۔آپ نے بگھی کی کھڑکی کھول دی اور اندر بیٹھے ہوئے ہی یہ فرمایا کہ میاں عبد اللہ صاحب کے مکان میں اس قد ر ا حباب کو جانے کی دقت ہوگی۔سرزد ہوتی ہیں۔آمین ثم آمین (خاکسار قدرت اللہ سنوری بقلم خود بمقام ربوه محله دار نصر) اس لئے احباب نہیں مصافحہ کر لیں۔مکرم عبد اللہ سنوری صاحب صاحب فرماتے تھے کہ اس وقت تمہاری عمر قریباً دو سال کی تھی۔اور میری گود میں میری پیدائش قصبه سنور ریاست پٹیالہ مغربی پنجاب ۱۳۰۰ھ مطابق قریباً ۱۸۸۲ء میں ہوئی۔میری پیدائش پر میرے والد صاحب اپنی جائے اٹھائے ہوئے تھے۔چونکہ میں کھڑکی کے بالکل آگے کھڑا تھا۔جب حضور ملازمت پر تھے۔تاریخ پیدائش پر میرے دادا صاحب مرحوم نے حافظ شیر نے مصافحہ کے واسطے ہاتھ بڑہایا تو تم نے گود میں سے یہ سمجھا کہ مجھے لینے کے محمد صاحب (جو بعد میں بیعت کر کے صحابہ میں شریک ہوئے) کو گھر پر بلا کر لئے ہاتھ پھیلائے ہیں اور حضور کی طرف جھکے۔حضور نے پہلے تم سے اذان دلوائی۔حافظ صاحب نے میرا نام قدرت اللہ تجویز کیا۔جب والد مصافحہ کیا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا آؤ میاں پہلے تم سے مصافحہ کر لیں۔پھر صاحب کی خدمت میں خط کے ذریعہ اطلاع پہنچی (وہ عالم اور شاعر تھے) مجھ سے مصافحہ کرنے کے بعد سب سے مصافحہ فرمایا۔اس کے بعد حضور انہوں نے میرا تاریخی نام غلام مصطفیٰ (ان میں سے ۱۳۰۰ھ نکلتا ہے) رکھا۔مکان میں تشریف لے گئے۔کھانا کھانے کے بعد حضور پیڑھی پر تشریف فرما تھے۔مکرم عبد اللہ صاحب کے صاحبزادے رحمت اللہ صاحب کو حضور کی مگر حافظ صاحب نے جو نام رکھا تھا۔وہی مشہور ہو گیا۔چونکہ مولوی عبد اللہ سنوری مرحوم میرے چچا تھے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ ا السلام گود میں دیا گیا۔جس کو گود میں لے کر پیار فرمایا۔اس کے بعد مجھے آپ کی گود میں دیا گیا۔حضرت صاحب دعوت کے بعد پٹیالے تشریف لے گئے۔