سیرت احمد

by Other Authors

Page 109 of 131

سیرت احمد — Page 109

205 204 میں خوشبو آتی ہے۔اللہ تعالیٰ بے رحم نہیں وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔حالت ہے۔ایک وقت آنے والا ہے کہ ہمارا وجود اور ہماری یہ مجالس یعنی دوسرے لوگوں سے ان کا اندازہ ایمان ظاہر کرتا ہے۔سو آپ کی قوت خواب و خیال کی طرح ہو جائیں گی۔اور لازم ہے کہ بد صحبت سے پر ہیز ایمانی آپ کے اس خط سے ظاہر ہے۔ایمان جیسی کوئی چیز نہیں۔ایمان گم کریں۔دل کو گناہ کے منصوبوں سے پاک رکھیں۔کہ بد قسمت ہے وہ شدہ چیز کو بہتر صورت میں واپس لاتا ہے۔امید ہے کہ یہ مصیبت دوسری انسان اور بد بخت ہے وہ آدمی جس کا دل ہمیشہ گناہ کے منصوبے سوچتا ہے۔تکالیف سے رہائی پانے کا موجب ہو گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن مَعَ آپ کو دنیا کے شغل میں کئی ابتلا پیش آئیں گے۔ہر ایک ابتلا میں خدا پر الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا خدا تعالیٰ آپ پر فضل کرے۔بھروسہ کریں نہ کوئی عمدہ حالت کسی تکیہ کا موجب ہو۔اور نہ کوئی تنگی کی اور تمام مشکلات سے رہائی بخشے۔آمین۔والسلام غلام احمد عفی عنہ۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔محی عزیزی اخویم سید فضل شاہ صاحب حالت بے صبر کر سکے۔باتیں بہت ہیں۔مگر بالفعل اس پر کفایت کرتا ہوں کہ خدا کا خوف اور اس کی مخلوق کی ہمدردی اور اپنی بیوی اور اہل سے رحمت اور در گذر اور اولاد کو دین کی رغبت دلانا اور بھائی کے ساتھ علم اور خلق کے ساتھ معاشرت کرنا۔اور عام لوگوں کے ساتھ حتی المقدور بھلائی اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔افسوس کہ میں اس وقت بباعث درد ترک شر سے پیش آنا۔اور اپنے خدا اور اس کے رسول کو سب پر مقدم سر جو بوجہ گرمی ہو گئی ہے۔حاضر نہیں ہو سکا۔آپ نے جو چند کلمات رکھنا۔اور چالیس دن میں سے ایک مرتبہ خدا تعالیٰ کے خوف سے رونا بھی نصیحت کے لئے لکھے تھے۔اس قدر کافی ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے رب کریم طریق سعادت ہے۔خدا تعالیٰ توفیق بخشے۔مجھے اس وقت درد سر ہے طاقت قادر و قیوم کے احکام کو یاد رکھیں اور کہ نماز پنجگانہ دلی خلوص سے ادا حاضری مسجد نہیں۔اسی جگہ دونوں نمازیں پڑھوں گا۔اس لئے دعا کریں۔اور ہمیشہ نماز میں بعض دعا ئیں اپنی پنجابی زبان میں کر لیا کریں۔نیز مطلوبہ۔ایک کرتہ اور یہ نصیحت نامہ ارسال ہے۔والسلام نماز میں اپنی زبان میں بہت دعا کیا کریں۔جہاں تک ممکن ہو نماز تہجد کا بھی التزام رکھیں اور اس میں بھی اپنی زبان پنجابی میں دعا کیا کریں موت کو یاد رکھیں کہ یہ موت جب آتی ہے تو باز کی طرح ایک پوشیدہ جست سے اپنا شکار بنالتی ہے۔جہاں تک ممکن ہو ہمیشہ کوشش کریں کہ جلد جلد اس جگہ آیا کریں کہ جس طرح ہر ایک چیز فانی ہے۔اسی طرح ہمارے وجود کی یہی خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۴۔جولائی ۱۹۰۰ء