سیرت احمد

by Other Authors

Page 107 of 131

سیرت احمد — Page 107

201 200 آپ کا خط اور آپ کی وہ تمام چیزیں جو آپ نے مہربانی فرما کر ارسال کی ہیں پہنچ گئی ہیں۔جزاکم اللہ خیر الجزا۔خداوند کریم آپ ان سب خدمات کا جو آپ کرتے رہے ہیں۔اجر بخشے۔اور آپ پر راضی ہو۔مجھے اپنی خیرو عافیت سے مطلع فرماتے رہیں۔اور اخویم منشی کرم الہی صاحب کے لئے دعا خیر کی گئی ہے۔میں خوب جانتا ہوں۔منشی صاحب اس عاجز سے اخلاص رکھتے ہیں۔ایک نئے مسئلے میں منشی صاحب کو اصل حقیقت معلوم نہیں تھی۔ورنہ وہ خود بہتوں سے جھگڑتے پھرتے۔اور جس وقت ازالہ اوہام شائع ہوا۔اس وقت امید رکھتا ہوں کہ سب سے پہلے منشی صاحب لاہور میں اس کی اشاعت کے لئے قدم اٹھا ئیں گے۔غرض میں منشی صاحب سے بدل راضی ہوں۔ناواقفیت کی حالت میں جو کچھ منہ سے نکل گیا۔وہ عند اللہ قابل معافی ہے۔خدا تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے۔والسلام غلام احمد از لدھیانہ محلہ اقبال گنج ۱۸۔اپریل ۱۸۹۱ء بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔محی اخویم سید فضل شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ہے۔اس لئے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ بہت مدت تک ہماری جماعت باہر جنگل میں تکلیف اٹھارے۔ہاں اگر شہر میں کچھ زور طاعون کا ہے۔تو اس صورت میں شہر میں آنا مناسب نہ ہو گا۔اور میں بھی چاہتا ہوں کہ ایک ایک دو ہفتہ کے بعد یا جب اللہ تعالیٰ چاہے باغ سے قادیان کے اندر چلا جاؤں۔میری یہی تمنا ہے کہ اس آنے والی آفت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ مفصل حال معلوم ہو جائے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔مگر بہت خوشی ہو گی۔اگر خدا تعالیٰ کی وحی سے تاریخ اور وقت کا پتہ لگ جائے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔بے شک سب احباب جماعت جو باہر ہیں شہر میں آجائیں۔اگر لوگ ٹھٹھا کریں تو کہہ دیں۔آج تم ٹھٹھا کرتے ہو۔اور وہ وقت آنے والا ہے جو ہم ٹھٹھا کریں گے۔ہر ایک کے لئے خدا تعالیٰ نے وقت مقرر کیا ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۱۸- مئی ۱۹۰۵ء بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ محی اخویم سید فضل شاه صاحب و سید ناصر شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ نے مجھے آفت زلزلہ کے وقت اور روز سے مجھ کو اطلاع نہیں السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔میری دانست دی۔بلکہ یہ بھی اطلاع نہیں دی کی وہ آفت جس کا نام زلزلہ رکھا گیا ہے۔میں نوکری چھوڑنے کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ مقلب کیا وہ حقیقت میں زلزلہ یا کوئی اور آفت شدیدہ ہے جو زلزلہ کے رنگ میں ہے۔اس القلوب ہے اور دلوں پر تصرف رکھتا ہے۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انگریز کے دل کو آپ کی طرف پھیر دے۔یا کسی اور مہربان حاکم کے ماتحت کر دے۔میں بھی انشاء اللہ دعا کرتا رہوں گا۔جلد جلد مجھے کو خبر دیتے رہیں