سیرت احمد

by Other Authors

Page 100 of 131

سیرت احمد — Page 100

187 186 باقی سب طرح سے خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۳۔مارچ ۱۸۹۹ء خدا تعالیٰ کے لئے مواعید کو پورا کرنے والے ہوں۔آج کل مخالفین کا زور کاف سے نہ لکھیں۔اور نہ بٹالہ کو طاء سے لکھیں۔اور محمد حسین کو یہ بھی حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔لاہو ر تو آج کل گویا آتش کدہ ہے۔ہر روز نئے فہمائش ہوئی کہ وہ اپنے دوستوں کو گندی گالیاں اور فحش گوئی سے روکے۔نئے فتنہ پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔مجھے معلوم نہیں کہ رسالہ غرض اس طرح پر مقدمہ فیصلہ ہو گیا۔اب میں انشاء اللہ القدیر آپ کے " سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب آپ کے پاس پہنچا ہے یا لئے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس جگہ خیر و عافیت سے جلد لاوے۔نہیں۔اور رسالہ سراج منیر اور حجتہ اللہ اور استفتاء اور چودھویں صدی کے اخبار کا جوابی اشتہار آپ کو پہنچا ہے یا نہیں۔ان میں سے اگر کوئی رسالہ یا اشتہار نہ پہنچا ہو تو مطلع فرما دیں۔تاکہ آپ کو بھیج دیا جاوے۔زیادہ خیریت ہے والسلام خاکسار مرزا غلام احمد صاحب عفی عنہ ۹۔جولائی ۱۸۹۷ء۔کیا آپ کی نینی تال کی بدلی ہو گئی ہے یا نہیں۔اگر ہو گئی ہے تو مفصل پتہ ارسال فرماویں۔تا آئندہ اس پتہ پر خط لکھا کروں۔بالفعل چکرانہ میں ہی خط بھیجتا ہوں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔تفصیل بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔محی عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ اللہ تعالٰی۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔آپ کے گھر کے لوگوں کے لئے دعا کی گئی۔اللہ تعالیٰ شفاء بخشے۔آمین۔ان دنوں میں سرکار کی طرف سے مجھ پر بشمولیت محمد حسین ایک فوجداری مقدمہ دائر ہو گیا ہے۔ایک پیشی ہو چکی ہے۔اب ۵۔جنوری ۱۸۹۸ء مقرر ہے۔آج کل ایسے نازک مقدمات میں بغیر وکلاء کے کام نہیں چلتا اس لئے میں نے تجویز کی ہے کہ اپنے چند خاص اور مخلص دوستوں سے خرچ وکلاء مقدمہ کے لئے مدد طلب کی جائے۔اس لئے ایسے خوفناک وقت میں آپ کو ہی تکلیف دیتا ہوں۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ دلی اخلاص اور محبت سے معمور ہیں۔باقی ہر محی عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ مع مبلغ ساٹھ روپے یہ مندرجہ پہنچے۔جزاکم اللہ خیر الجزا۔آمین۔مقدمہ متدائرہ ۲۴۔فروری ۱۸۹۹ء کو خارج کیا گیا اور مجھ کو بری کیا گیا اور محمد حسین کو فہمائش کر کے رہا کیا گیا۔مگر بری نہیں ہوا۔جانبین سے دو طرح سے خیریت ہے۔نوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کسی کی موت کی پیشگوئی نہ کریں۔اور ایک دو سرے فریق کو کافر اور کذاب اور دجال نہ کہے۔قادیان کو چھوٹے والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۹ دسمبر ۱۸۹۷ء ↓ 1 را 1 1