سیرت احمد

by Other Authors

Page 94 of 131

سیرت احمد — Page 94

175 174 کو بھی مل جاتا۔کیونکہ بہت دوست ایسے بھی ہوتے تھے۔جن کے پاس کرایہ نہیں ہوتا اور وہ مانگتے بھی نہیں۔احمدی نے چند دن ہوئے کچھ کپڑے پیش کئے۔آپ نے واپس کر دئیے۔میں نے کہا کچھ بھی ہو میں تو سال بھر اس کے فکر میں رہا اور عمدہ کپڑا سلا مجھے ایک دو روحانی بیماریاں تھیں۔جو نہ ظاہر کرنے کے قابل تھیں۔کر کے شوق سے اخلاص سے حضور کے لئے لایا ہوں۔اگر نہ پہنیں گے تو اور جن کا چارہ بھی بغیر ظاہر کئے نظر نہ آتا تھا۔میں شش و پنج میں تھا کہ کیا میں کسی اور جگہ تو دیتا نہیں۔پھر تو میں اسے جلا دوں گا۔کروں۔جب تک ظاہر نہ کروں اصلاح کیسے ہوگی۔اور ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے بہت سمجھایا۔مگر میں نہ مانا۔آخر میں وہ چونہ لے گیا اور شرم دامنگیر تھی۔اللہ اللہ حضور کی قوت اعجازی کے۔حضور نے خود ہی حضور کے آگے رکھ دیا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے کہا کہ حضرت یہ بس تقریر میں فرما دیا کہ بہت سے لوگ اپنی بدیوں کو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر چھوڑ یہ ہی کہا تھا کہ حضور نے شفقت اور بڑے ادب سے اس کو اٹھا لیا۔میرا دل نہیں سکتے۔اس واسطے ان کو چاہئے کہ اس بدی کے اسباب تلاش کریں کہ باغ باغ ہو گیا۔حضور لے کر اندر تشریف لے گئے۔وہ بدی کیوں ہوتی ہے اور کن وجوہات سے آتی ہے۔اور مثال بیان کی۔یہ سامنے سے بدبودار دھواں آتا ہے۔اگر منہ کے آگے ہم کپڑا کر بھی لیں تو روایت ۷۷ ہاتھ ہلنے سے کپڑا ہل جائے گا۔اور دھو اں ہم کو تکلیف دے گا۔اس لئے خشی جھنڈے خان ساکن جسے مالی ضلع گورداسپور اگر ہم یہ سوچیں کہ دھو آں کہاں سے آتا ہے۔اور وہ طاق یا روشندان بند کر دیں کہ جس سے دھو آں آتا ہے۔تو ہم دھوئیں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اسی طرح گناہ کی حالت میں ان اسباب سے انسان الگ ہو جائے۔کہ مصنف چمکار احمدی و چهکار مهدی جب میں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کر لی۔تو گاؤں کے لوگوں نے جن سے گناہ ہو تا ہے۔اس جگہ۔اس مکان اور پیشہ اور مجلس کو چھوڑ دے مخالفت شروع کر دی۔مسلمانوں نے تو کرنی ہی تھی ہندو لوگ بھی درپے آزار ہو گئے۔اور کہا۔لڑکے نہیں پڑھائیں گے۔تم تو مرزائی ہو گئے۔جو گناہوں کا باعث ہو۔ایک دفعہ میں ایک قیمتی چونہ سرخ اور روی بانات کا بڑے شوق اور مجھے ان کی شرارتوں سے خوف ہو ا تو قادیان آیا۔ایڈیٹر الحکم نے مشورہ دیا بڑی محنت سے بنوا کر لایا۔مہمان خانہ میں ایک دوست نے کہا۔یہ چونہ کیسا کہ آپ قادیان آجائیں۔میں آپ کو دفتر میں ملازمت دینے کو تیار ہے۔میں نے کہا۔حضرت صاحب کے لئے لایا ہوں۔اس نے کہا حضرت ہوں۔میں نے حضرت مسیح موعود سے اجازت چاہی۔آپ نے پوچھا تم کو صاحب تو نہ پہنیں گے۔کیونکہ میرے سامنے کی بات ہے۔ایک معزز وہاں کیا ہے۔میں نے عرض کر دی کہ یہ حالت ہے۔آپ نے فرمایا۔صحابہ K T |