سیرت احمد

by Other Authors

Page 83 of 131

سیرت احمد — Page 83

153 152 مولوی نور الدین صاحب کو لے جاؤ۔چنانچہ وہ مولوی صاحب کو لے گئے۔کیں۔لیکن وہ وظیفہ ہی پوچھتا رہا۔آپ نے فرمایا اچھا جب کسی حاکم کے انہوں نے علاج کیا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔مرض بڑھ گئی۔شام کے وقت میرا پاس جانا ہو۔سورہ یاسین ایک دفعہ یا تین دفعہ پڑھ کر جانا۔پھر جب سامنے چچا اور میرا بیٹا پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور سے عرض جانے لگو۔اپنی انگلی سے ماتھے پر یا عزیز لکھ لینا انشاء اللہ تعالیٰ وہ حاکم اچھی کیا۔بیماری بڑھ گئی۔حکیم صاحب کا خیال ہے کہ اب بچنا مشکل ہے۔زندگی کی نسبت موت قریب ہے۔آپ نے فرمایا۔اچھا میں دعا کروں گا۔روایات ۶۷ سید فضل شاہ صاحب توجہ کرے گا۔روایت ۶۸ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد حالت میں تغیر ہو گیا۔اور صبح تک میں بولنے لگا۔بھائی عبدالرحیم صاحب سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ ہاؤس احمد یہ سکول اور دوپہر تک خدا کے فضل اور حضور کی دعا سے خاصی طاقت ہو گئی۔حتی ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد مبارک میں کہ اگلے دن میں نے مسجد اقصیٰ میں جاکر نماز جمعہ ادا کی۔تشریف فرما تھے۔لوگ ارد گرد جمع تھے۔ایک لڑکا برابر بیٹھا حضور کے ہاتھ دبا رہا تھا کہ حضرت صاحب نے ایک ٹانگ کو اپنی دوسری ٹانگ پر رکھا۔اس لڑکے نے غلطی سے سمجھا کہ کسی نے حضرت صاحب کی ٹانگ پر بوجھ دے دیا ہے۔اس نے حضرت صاحب کی اوپر کی ٹانگ پر چٹکی لے لی۔آپ نے ایک فقیر کو عادت تھی کہ حضرت صاحب کے پاس آکر کبھی کہتا ایک آنہ جھٹ ٹانگ اتار لی۔تھوڑی دیر بعد حضرت اقدس نے پھر اس طرح کیا۔ولواؤ۔کبھی کہتا دو آنہ کبھی آٹھ آنہ۔غرض وہ کچھ یقین کر کے مانگا کرتا۔اس نے پھر اسی طرح چٹکی لی۔آپ نے پھر ٹانگ اٹھالی۔تھوڑی دیر بعد اگر حضرت صاحب کسی کام یا بات میں مشغول ہوتے وہ بار بار کہتا اور لے کر آپ نے پھر ایسا کیا اس نے پھر زور سے چٹکی لی اور مڑکر دیکھا۔جب دیکھا کہ ہی پیچھا چھوڑتا۔پھر حضرت صاحب اس کے خوب واقف ہو گئے۔جب وہ میں نے تو حضرت صاحب کی ٹانگ پر تین چٹکیاں لی ہیں دم بخود ہو گیا۔حضور آتا اور جتنے پیسے مانگتا آپ اتنے ہی دے دیتے اور فرمایا کرتے یہ تو اتنے لئے نے اسے کچھ نہ کہا۔بغیر ملنے کا ہی نہیں۔اس کو اتنے ہی دو جتنے یہ مانگتا ہے۔ایک دفعہ ایک مہمان نے عرض کی حضور میں مالی مشکلات میں ہوں کوئی ملازمت چاہتا ہوں۔ایسا کوئی وظیفہ بتا ئیں جس سے حاکم میری طرف متوجہ روایت ۶۹ میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحق دہلی آپ دہلی تشریف لے گئے تھے۔کچھ دن وہاں حضور ٹھہرے۔آپ کو ہو جائیں اور میرا مطلب حاصل ہو جائے۔آپ نے اسے کئی صیحتیں درد نقرس شروع ہو گیا۔مولوی نور الدین صاحب کو بلایا گیا۔وہ بھی وہاں !