سیرت احمد

by Other Authors

Page 56 of 131

سیرت احمد — Page 56

99 98 بہت خسارہ ہوا ہے۔فروری ۱۹۰۰ ء میں حضور نے فرمایا۔رات میں نے خواب میں دیکھا۔چار شیخ صاحب میں نے تو بکری رکھی ہوئی ہے۔اس کا دودھ پی لیتا ہوں۔خیر میں نے اگلے دن سیر بھر دودھ بھیج دیا۔آپ نے لیا۔میں تین دن متواتر بھیجتا رہا۔چوتھے دن حضور نے منع فرما دیا کہ بس۔میں نے رقعہ لکھا کہ حضور نے آدمی میرے پیش کئے گئے ان کی قسمت کے نوشتہ بھی دکھائے گئے۔اور ایک دودھ کیوں واپس کر دیا۔آپ نے فرمایا۔دعوت کی حد تین دن ہے۔اس کی ان میں سے چار سال کی عمر بتائی گئی۔جب حضور سے ان کا نام پوچھا۔تو سے زیادہ نہیں۔اس کے بعد تکلف ہے۔اور نبی کریم کو اللہ تعالیٰ فرماتا حضور نے نام نہ بتلائے بلکہ کہا کہ یہ باتیں قضاء و قدر کی ہیں ہم ظاہر کرنی نہیں ہے: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ۔اس لئے میں نے بھی اس آیت پر چاہتے۔اس میں اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہے۔مئی ۱۸۹۹ء میں حضور کو الہام عمل کیا۔لہذا آج دودھ نہ بھیجیں۔ہوا: إني لا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفْسِدُونَ - إِنِّي ایک دن میں فرنی بنوا کر لے گیا۔اور رکابیوں کی تعداد اتنی لے گیا جتنے ایک دن حضور نے فرمایا۔جن دنوں میں سیالکوٹ میں رہتا تھا۔ایک کہ مرد۔عورتیں اور بچے حضور کے ساتھ اندر تھے۔حضرت صاحب کے روز میں دو منزلہ مکان پر تھا، چند اور شخص بھی ساتھ تھے۔جب رات دروازه پر دستک دی۔حضور خود ہی تشریف لائے۔میں نے فرنی پیش کی۔گذری چھت میں کھڑ کھڑا ہٹ ہوئی میں نے لوگوں سے کہا۔نکلو چھت کے فرمانے لگے۔آپ نے تکلیف کیوں کی ہے۔پھر فرمایا۔اچھا ایک رکابی لے گرنے کا خوف ہے۔لوگوں نے کہا شاید چو ہے وغیرہ ہوں گے۔خیر سو گئے۔لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا کہ میں تو حضور کے عیال کا شمار کر کے ہر ایک کے پھر مجھے ایسا ہی معلوم ہوا۔میں نے جگایا۔انہوں نے پہلی طرح پھر ٹال دیا لئے ایک ایک رکابی لایا ہوں۔آپ نے پہلے ایک رکابی لی پھر میرے اصرار اور سو گئے۔تیسری دفعہ مجھے ایسا ہی پھر معلوم ہوا میں نے زور سے لوگوں کو پر ایک اور لے لی۔پھر فرمایا۔باقی لے جاؤ۔کہا جلدی اترو۔چنانچہ سب اترے میں سب سے پیچھے رہا۔جب میں اترا۔جن دنوں کرم دین کے ساتھ مقدمات تھے۔مجھے حضور نے فرمایا۔شیخ تو دھڑام سے چھت گر پڑی۔خداوند تعالیٰ نے میری وجہ سے ہی ان سب صاحب آپ کی دوکان کا کیا حال ہے۔میں نے عرض کیا۔حضور کے دروازہ لوگوں کو بچایا۔کیونکہ مجھ سے خدمت دین کرانی تھی۔میری وجہ سے وہ پر دھونی رمائے بیٹھا ہوں۔کچھ نائی دھوبی کے لئے پیسے مل جاتے ہیں۔بھی بچ گئے۔فرمانے لگے ، آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالٰی آپ کو بہت برکت دے گا۔فرمایا میں آپ کی ایک بات پر بہت حیران ہوں وہ آپ کا استقلال ہے جو آپ اس دکان میں ہارے نہیں بلکہ لگے ہی رہے ہیں۔باوجودیکہ تمہیں آپ نے فرمایا۔جو رسول کریم ( ا ) نے فرمایا ہے کہ صحیح کے اولاد ہو گی اور دجال کے اولاد نہ ہو گی اس سے حدیث شریف کا یہ منشاء ہے کہ جب مسیح فتح پائے گا تو دجال کی شرانگیز اولاد قطع ہو جائے گی۔یعنی اثر :