سیرت احمد

by Other Authors

Page 54 of 131

سیرت احمد — Page 54

95 94 مجھے سب سامان تیار ملا اور جنازہ پڑھوا کر والد صاحب کو دفن کر دیا۔ایسے جلیل القدر بادشاہ کو غلاموں کی اس قدر پر واہ۔یہ بغیر خد اتعالیٰ کے مقبولوں کے دوسرے میں نہیں پائی جاسکتی۔میں حضور سے دس روز کی رخصت لے کر گھر گیا۔واپسی کے روز میرا بڑا لڑکا بیمار ہو گیا۔مجھے گھر والوں نے روکا۔میں نے کہا۔میں نے حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کے حضور اقرار واپسی دسویں روز کیا ہے۔میں نہیں رک سکتا۔بچہ کا علاج کرواؤ۔اللہ کافی ہے۔میری غیر حاضری کے ایام میں کسی نے پوچھا کہ حضور سیالکوٹ کب تشریف لے جاویں گے۔آپ نے فرمایا۔مہدی حسین نے جمعرات کے روز واپس آتا ہے۔اس کے آنے پر ہم اگلے روز روانہ ہو جائیں گے۔میں وقت مقررہ پر حاضر ہو گیا۔حضور نے مجھے ساتھ لیا اور سیالکوٹ معہ اور بہت سے احباب کے تشریف لے گئے۔ایام مقدمات گورداسپور میں واپسی کے وقت میں نے حضور سے عرض کیا کہ میں کس راستہ سے قادیان جاؤں۔حضور نے فرمایا۔آپ میرے ساتھ جاویں گے۔اس حکم سے جو حالت مجھ پر طاری ہوئی وہ وجدا نہ تھی کہ ایسے بادشاہ کو ایسے غلاموں سے ایسی شفقت ہے۔میں پیدل چل کر قادیان پہنچ سکتا تھا مگر حضور مجھے ساتھ لائے جس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔روایت ۴۳ حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ایک دن حضرت صاحب نے شیخ عبدالرحیم صاحب کو فرمایا کہ ایک بلٹی مالدے آموں کی آئی ہوئی ہے۔بلٹی لے جاؤ بٹالہ سے آم لے آؤ۔چنانچہ وہ فور آبلٹی لے کر چلے گئے۔وہاں پہنچ کر بلٹی حاصل کی اور لے کر واپس ہوئے۔انہوں نے کہا۔راستہ میں میرا دل چاہا کہ ایک آم کھاؤں۔مگر خیال آیا۔کہ خیانت ہو گی۔اسی شش و پنج میں مجھے یاد آیا کہ دوستوں کے گھروں سے کھانے کی نسبت قرآن میں آیا ہے کہ صدیقوں کے گھروں سے کھالیا کرو۔میں نے سوچا کہ حضور سے زیادہ میرا مشفق کون ہے۔خیر ایک آم کھالیا اور قادیان مہمان خانہ میں پہنچا۔ٹوکری رکھ دی تو ایک بزرگ تشریف لائے۔ان سے عرض کیا۔میں بلٹی چھڑوا کر لے آیا ہوں۔اس ٹوکری کو اندر پہنچا دیں۔انہوں نے ٹوکری لے لی تو چلتے وقت میں نے ان سے کہا کہ جناب ایک آم میں نے ان میں سے کھالیا ہے۔حضور کی خدمت میں عرض کر دیتا۔وہ ناراض ہوئے اور کہا کہ اچھے مرید ہو۔پیر کا مال کھانے میں بھی دریغ نہیں کیا۔میں نے کہا۔خیر کھالیا۔آپ حضور سے کہدیں۔چنانچہ انہوں نے ٹوکری لے جا کر حضرت صاحب کے پیش کی اور شکایت کی۔حضور نے فرمایا۔کیا ہوا۔ایک آم اور ان کو دیدو۔چنانچہ حضور کا بھیجا ہوا آم میرے تک پہنچا اور میں نے خدا کا شکر کر کے کھایا۔روایات ۴۴۔حافظ محمد ابراہیم صاحب ایک دفعہ کا ذکر ہے۔گورداسپور میں مقدمہ کے ایام میں جو کرم دین