سیرت احمد — Page 24
35 34 الہام کرے وہ پہنچایا جائے۔اور سب پہنچایا جائے۔میں نے عرض کیا کہ صحیح ہوگا۔کیونکہ این عزم الملوک یعنی وہ شاہی عزم کہاں ہے۔اس نے کہا۔کہ بس اب میں اقرار پر قائم رہوں گا۔چنانچہ وہ تھوڑی مدت میں تندرست ہو گیا۔فرمایا اسی طرح مومن کو عزم اور استقلال چاہئے۔آپ کی طرح اگر شیخ عبد القادر جیلانی یا بادا صاحب یا دوسرے اولیاء اللہ عزم اور استقلال نہ کرتے۔تو اس درجہ تک کہاں پہنچتے۔آپ تذکرۃ الاولیا کو بخاری میں ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ مجھے دو علم کے برتن جناب مستجاب سے ملے۔ایک تم پر ظاہر کر دیتا ہوں ایک اگر ظاہر ہو جائے تو تم میرا گلا کاٹ دو۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ بعض علوم مخفی تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ روایت مطابق روایت ہے؟ تم بتاؤ کیا یہ دیکھیں۔اس میں ذکر ہے کہ کس حد تک انہوں نے ریاضتیں کیں اور کتنی ابو بکر، عمر، عثمان نے کہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی ابو ہریرہ ان علوم کی گویائی کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔یا اس کا محل اس وقت نہیں تھا۔جب میں نے بیعت کی اس وقت حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ فرما دیں کہ کس ڈھب سے ایسا اعتقاد حاصل ہو سکتا ہے جو خد اتعالیٰ پر کامل یقین ہو جاوے یوں تو ایمان رکھتا ہوں مگر عملی طریق میں آ کر وہ ثابت نہیں ہو تا۔آپ نے فرمایا۔اسکے لئے جہاد کی ضرورت ہے۔کیونکہ قرآن شریف میں ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں۔آپ ریاضت کریں۔میں نے عرض کیا کہ حضور نمازیں پڑھی جاتی ہیں ، دعائیں کی جاتی ہیں ، لیکن وہ یقین حاصل نہیں ہو تا جو چاہئے۔فرمایا مومن میں ایک عزم ہونا چاہئے۔جیسا کہ ایک بادشاہ بیمار تھا۔وہ بہت علاج کرتا تھا۔لیکن آرام نہ ہو تا تھا۔وجہ یہ تھی کہ حکیموں کے روبرو اقرار کے باوجود پھر پرہیز نہ کرتا تھا اور صحت نہ ہوتی تھی اس پر ایک حکیم آیا اور تکالیف اٹھا ئیں۔میں نے عرض کیا۔اگر یہ سب کچھ ہم نے ہی کرنا تھا۔تو پھر حضور کے تشریف لانے کی کیا ضرورت تھی۔آپ نے فرمایا کہ یہ آپ لوگوں کی فطرت صحیحہ کی کشش ہے جو مجھے بارگاہ ایزدی سے کھینچ کر لائی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ ہجرت کا اصل سبب مدینہ والوں کی پاک فطرت کی کشش تھی جو حضور کو مکہ سے مدینہ لے گئی۔آپ عزم استقلال سے لگے رہیں اور دعا ئیں کرتے رہیں انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن وہ یقین حاصل ہو جائے گا۔سوالحمد للہ کہ آج وہ بات حضور کی دعا کے طفیل حاصل ہو گئی ہے۔روایت ۲۳ حضرت حافظ احمد اللہ صاحب مهاجر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جب کہا میں جناب کا علاج کرتا ہوں۔چنانچہ اس نے نسخہ دینے کے بعد چند باتیں کسی بندے کو اصلاح خلق کے لئے مامور کرنے کی غرض سے منتخب فرمایا تو پر ہیز کی بتلائیں اور پھر کہا۔بادشاہ سلامت آپ نے اس پر عزم دکھانا پہلا کلام یا مخاطبت اس کے ساتھ یہ فرمائی۔إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مُكِيْنَ