سیرت احمد — Page 122
231 230 کر کے قادیان آجاؤں۔جواباً حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ کچھ لوگوں کو باہر بھی کام کرنا چاہئے جو ملازمت کے سلسلے میں ہیں۔اس جواب کے پہنچنے پر میرے دل میں بعض اوقات یہ تڑپ ہوتی تھی۔کہ کاش مجھے اس بات کا علم حضرت مسیح موعود کے وقت ہو جاتا اور وہاں حاضر ہو جاتا۔جو روحانی فیوض قادیان میں ہیں وہ باہر رہنے میں نہیں ہیں۔چنانچہ میں اس کے متعلق دعائیں کرتا تھا۔ایک رات میں نے نہایت ہی تضرع سے دعا کی کہ قادیان میں اپنا نصیب نہیں ہوا ہے بعض صحابہ کرام کو رسول کرم کے زمانہ میں بھی باہر بھیج دیا گیا تھا۔میں نے جناب الہی میں عرض کیا کہ ان پر بھی کوئی اس وقت براه راست برکات کا نزول ہوتا ہوگا۔اے خداوند تعالیٰ تو میری حالت پر بھی رحم فرما اور مجھے براہ راست برکات میں سے کچھ حصہ عنایت فرما۔میں رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتا تھا۔تو پہلے ایک پارہ تلاوت کرتا تھا۔چنانچہ اس رات پندرھواں پارہ میری تلاوت میں تھا۔جب میں اس آیت پر آیا۔وَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةٌ لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ تعالیٰ آپ کو اس مقام پر کھڑا کرے گا۔حضور نے مجھے اس کوئی جواب نہ عطا فرمایا۔مارچ ۱۹۱۴ء میں جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی۔آپ کی وفات کی اطلاع پر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بیعت کے لئے قادیان حاضر ہوا۔اور حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کر لی۔دوسرے تیسرے روز آپ چوبارے میں ڈاک ملاحظہ فرما رہے تھے۔میں بھی وہاں حاضر ہو گیا تھا۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم ان کے علاوہ دو تین اور دوست وہاں موجود تھے۔اس وقت حضور نے نواب صاحب کی طرف مخاطب ہو کے فرمایا کہ ہمارے میاں کو ایک سال پہلے اس خلافت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اطلاع دے دی تھی اور انہوں نے مجھے لکھا تھا۔نواب صاحب نے دریافت کیا کہ آپ کے میاں کون؟ حضور نے فرمایا۔یہ میاں قدرت اللہ صاحب سنوری بیٹھے ہیں۔انہوں نے مجھے اطلاع دی تھی۔میں نے اخبار الفضل میں اتنا نوٹ دے دیا تھا کہ بعض دوستوں کے لطیف مضامین آئے ہیں جن کے شائع ہونے کا رَبِّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا - (۸۰ / بنی اسرائیل) تو اس وقت کشفی حالت وقت نہیں۔اور میری طرف مخاطب ہو کے فرمایا کہ بتا ئیں وہ ۱۹۱۴ عدد کیسے طاری ہو گئی۔اور نَافِلَةٌ لكَ سے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا تَمَحْمُودًا تک ایک لائن کھینچی ہوئی تھی۔جس کے اوپر ۱۹۱۴ء لکھا ہوا تھا۔جب یہ حالت دور ہو گئی تو میں نے ابجد کے لحاظ سے اعداد نکالنے شروع کئے۔چنانچہ اس حصہ آیت کے ۱۹۱۴ عدد نکلے۔یہ ۱۹۱۳ء کا نکلتے ہیں اور وہ کس طرح ہو ا تھا۔میں نے عرض کیا۔اس پر آپ نے مولوی محمد اسماعیل صاحب کو فرمایا کہ آپ عدد نکالیں کیا یہ درست ہے؟ چنانچہ انہوں نے اعداد نکال کر کہا۔حضور درست ہے ۱۹۱۴ ہی نکلتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اب اسے الفضل میں شائع فرما دیں۔چنانچہ میں نے یہ واقعہ ہے۔میں نے صبح کو موجودہ امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت مضمون اور دو تین مزید خواب جو اس کے متعلق تھے لکھ کر دفتر الفضل میں بابرکت میں تحریر کیا کہ مجھے کشفی حالت میں ایسا بتایا گیا ہے۔۱۹۱۴ء میں اللہ بھجوائے تو انہوں نے کہا کہ کاپی تمام لکھی جاچکی ہے۔اس لئے اگلے شمار !