سیرت احمد

by Other Authors

Page 121 of 131

سیرت احمد — Page 121

229 228 تیری بنے گی ایک نشاں موت مجھ کو دیتا یہیں دکھائی ہے ۱۹۰۸ ء کا واقعہ ہے۔مئی کے مہینے میں رخصت پر سنور گیا ہوا تھا۔دوکان کی مرمت کرا رہا تھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سنوری بھی سنور تشریف لے آئے۔عشاء کی نماز کے وقت انہوں نے مجھے فرمایا کہ کہ صبح قادیان چلیں۔میں نے عرض کیا کہ دو دن کا کام باقی ہے۔دو دن ٹھہر جائیں۔پھر چلیں گے۔فرمایا بہت اچھا۔لیکن اگلے دن صبح کے وقت آٹھ بجے کے قریب میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ بھئی تم دو دن ٹھہر کر آجانا۔میری طبیعت بے چین ہے اس لئے میں تو اب جاتا ہوں۔چنانچہ وہ تشریف لے گئے۔جب وہ قادیان شریف پہنچے۔تو اس وقت معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا وصال ہو چکا ہے۔اور جنازہ قادیان آچکا ہے۔آپ جنازے میں شامل ہو گئے۔بعد میں جو مجھے ملے تو فرمایا۔کہ اگر میں اس وقت تمہاری درخواست پر رک جاتا تو مجھے یہ موقع میسرنہ سے آکر ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔چونکہ دفتر سے چھٹی تھی۔آپ صبح اس مکان میں تشریف لائے اور مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اکیلے ہیں باقی سب کہاں گئے۔میں نے عرض کیا۔کہ سب امیر کابل کو دیکھنے گئے ہیں۔فرمانے لگے تم کیوں نہیں گئے میں بھی وہاں جا رہا ہوں۔ہنس کر فرمانے لگے کہ آپ شاید اس لئے نہیں گئے کہ چونکہ کیمپ آفیسر آپ کے والد کا دوست ہے اس واسطے آپ ان کے ساتھ نہیں گئے کہ اگر ان کے ساتھ گیا تو ان سب کو کھانا وہیں سے کھلانا پڑے گا۔میں نے عرض کیا کہ یہ بات نہیں ہے اصل میں میرا دل ہی نہیں چاہتا۔فرمانے لگے میں سمجھ گیا کہ تم کیوں نہیں جاتے۔میں جو جا رہا ہوں تم بتاؤ کہ میں کیوں جا رہا ہوں؟ میں خاموش ہو گیا۔میں نے کوئی جواب نہ دیا۔میں چشم پر آب ہو گیا تھا۔فرمانے لگے کہ آپ اس وجہ سے نہیں گئے کہ امیر کابل وہ انسان ہے جس نے سید عبد اللطیف صاحب کو شہید کرایا۔آپ کی غیرت نے یہ برداشت نہیں کیا کہ آپ اس کی شکل دیکھیں۔لیکن میں اس غرض سے جاتا ہوں تا آتا۔اس کا نتیجہ یہ ہو تاکہ میں تمام عمر بھر تمہاری شکل کبھی نہ دیکھتا۔میں یہ دیکھوں کہ وہ کیسا انسان ہے جس نے ایسا قبیح فعل کیا۔ایام بند و بست میں ۱۹۰۳ ء یا ۱۹۰۴ء کا غالبا واقعہ ہے۔امیر کابل میں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست پیش کی اس ہندوستان کے دورے پر آئے۔چونکہ انہوں نے سرہند بھی ٹھہرنا تھا۔مضمون کی کہ اثناء گفتگو میں میری اہلیہ نے مجھ سے بتایا کہ ایک دن حضرت کیونکہ وہاں مجد والف ثانی کا مزار ہے۔اور خاندان مجد د صاحب کا وہ مرید مسیح موعود نے مجھ سے یہ بات فرمائی تھی کہ رحیمن ! تم یہاں ہی رہو۔اور تھا۔جس تاریخ کو وہ سرہند تشریف لائے۔دفتروں میں تعطیل ہو گئی۔مکرم تمہارے میاں بھی یہاں آجائیں۔میں نے اس سے کہا کہ آپ نے مجھے عبد اللہ صاحب دفتر میں ہی آرام فرمایا کرتے تھے۔ان کا کھانا وہیں پہنچ جاتا اس وقت کیوں نہیں بتایا تھا۔اب اتنے عرصے کے بعد ذکر کیا ہے۔اس لئے تھا۔میں اور دو تین اور احمدی اور مولوی صاحب کے دو صاحبزادے دفتر یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ اگر آپ اجازت فرما ئیں تو ملازمت ترک i | 1