سیرت احمد — Page 12
11 10 ور نظر ہوشیار برگ درختان سبز ہر ورقے دفتری است معرفت کردگار خیال کرو۔ایک طرف تو ایک انسان کے واسطے ہر ایک ورق معرفت کا دفتر ہے۔اور وہ ہر ایک پتہ سے کیا کیا معرفتیں حاصل کرتا ہے۔دوسری طرف بھڑ بھونجے کو دیکھو ایک پنڈ پتوں کی لاکر بھٹی میں جھونک کر راکھ کر دیتا ہے اور ان پتوں سے کوئی معرفت اس کے خیال دو ہم میں بھی نہیں ہوتی۔اتنے میں اندر کچھری سے آواز پڑی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام بلا کسی قسم کی گھبراہٹ کے اندر گئے۔اندر سے کسی دوست نے جلد ہی کہہ دیا کہ مجسٹریٹ نے پانچصد روپیہ جرمانہ کر دیا۔اور جرمانہ ادا بھی کر دیا گیا۔حضور تشریف لے چلیں مگر ایک ذرہ بھی گھبراہٹ حضور کے دل میں نہ تھی۔میں عام طور پر ہر مقدمہ میں۔ہر جلسہ میں ہر ایک مباحثہ میں حضرت صاحب کے ساتھ رہا ہوں۔میں ہمیشہ حضور کے چہرہ پر بہادری شجاعت کے صاحب کو عمدہ غذا کھانے کی عادت تھی۔ہم لوگ واقف تھے اس لئے ہمیشہ کھانے میں جو چیز عمدہ ہوتی وہ مولوی عبد الکریم صاحب کے آگے کر دیا کرتے۔چنانچہ اس دن بھی انڈے وغیرہ مولوی عبد الکریم صاحب کے آگے رکھے) حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔منشی صاحب یہ بھی کھائیے (انڈوں کی طرف اشارہ کیا) میں نے ایک لقمہ لگالیا۔پھر آپ نے فرمایا۔یہ بھی کھائیے۔میں نے پھر لقمہ لگا لیا۔غرض حضور نے تین چار دفعہ فرمایا۔میں نے ہر دفعہ ایک لقمہ لگا لیا۔آخر حضور نے میری ران پر ہاتھ رکھ کر نهایت شفقت سے دبایا اور فرمایا اجی منشی صاحب خوب کھائیے۔اللہ اللہ کیا شفقت تھی۔دنیا میں ایسا شفیق کوئی عزیز نہ کوئی بزرگ میں نے نہیں دیکھا۔روایت ۶ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آثار دیکھتا رہا ہوں۔میں نے کبھی حضور کے چہرہ سے گھبراہٹ بے چینی ٹپکتی نہیں دیکھی۔جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ حضور کو اپنے مولا کی تائیدوں پر کس قدر کامل بھروسہ تھا۔ایک دن مسجد مبارک کی چھت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رونق افروز تھے۔شام کا کھانا باہر آیا۔حضور نے کھانا کھانا شروع کیا۔حضور کے سامنے مولانا مولوی نورالدین صاحب تھے ، برابر پر میں تھا۔میرے سامنے حضرت مسیح موعود کو ایک خیال ہر وقت رہتا تھا کہ وفات مسیح پر طرح طرح کے دلائل ہوں تاکہ دنیا کو کامل یقین وفات مسیح پر ہو جائے۔ایک دفعہ رات کے بارہ بجے حضرت صاحب اند ریلنگ پر سے اٹھ کر باہر صحن میں آئے اور کسی سے ذکر کیا کہ دیکھو یہ دلیل وفات مسیح پر ہے اور ہمیں ابھی اللہ تعالیٰ نے سمجھاتی ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب فرماتے تھے کہ مولوی عبد الکریم صاحب۔ہم چاروں کھانا کھانے لگے (مولوی عبد الکریم میں قریب کے چوبارہ میں تھا۔میں نے جب حضرت کو یہ ذکر کرتے سنا میں نے خیال کیا۔اللہ اللہ اس شخص کو کس قدر دین کا فکر ہے رات کے بارہ