سیرت احمد — Page 11
9 8 اور تمام جائز طاقتیں الہام کے پورا کرنے کے لئے خرچ کرتے۔خبریں وغیرہ منگانے میں خواہ کتنا ہی روپیہ خرچ ہو دے۔آپ ہرگز دریغ نہ فرماتے۔یہ آپ کے یقین کامل کی نشانی تھی کہ خدا میرے ساتھ ہے۔میں نے دوستوں سے سنا ہے کہ حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں مسیح ناصری کی خدائی کو خاک میں ملا کر جاؤں گا۔اور یہی وجہ تھی کہ حضور ہر تقریر کرتے وقت مسیح کی وفات کا ضرور ذکر فرماتے تھے۔ڈاکٹر مارٹن کلارک والے مقدمہ کے فیصلہ کے دن میں ساتھ تھا۔فیصلہ کے وقت حضور باطمینان تمام نماز جمعہ پڑھ رہے تھے۔حکم لے کر آدمی پاس آیا۔حضور نے نماز سے فارغ ہو کر اس حکم پر دستخط فرمائے اس حکم میں یہ ذکر تھا کہ آئندہ منذر پیشگوئیاں شائع نہ کریں۔میں نے عرض کیا کہ حضور اب مشکل ہوگی۔آپ نے فرمایا کوئی مشکل نہیں سیلاب کے پانی کسی کے روکے کب رکھتے ہیں۔وہ تو اپنے نکلنے کے لئے خود راہ نکال لیتے ہیں۔خواہ ان کے لئے کوئی لاکھ روکیں بناوے۔ایک راہ نہیں ہو گا دوسرا ہو گا۔حضور دہلی میں گئے۔جاتے وقت خاص خاص دوستوں کو خط لکھے کہ جس دوست کو خط ملے وہ اگر ہو سکے دہلی پہنچے۔ہمارا مباحثہ مولوی نذیر حسین دہلوی سے ہو گا۔چنانچہ میں بھی دہلی پہنچا۔وہاں معلوم ہوا کہ مولوی صاحب کا فساد کرنے کا منشاء ہے۔اب ہم نے امیر علی شاہ سے جو غالبا انسپکٹر نہیں کر سکتے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر سے عرض کردی کہ مولوی لوگ روز بحث کرتے ہیں کیا آپ روزان معمولی باتوں کا انتظام کریں گے۔چنانچہ انہوں نے کہہ دیا کہ انتظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم مجبور ہیں۔اس طرح باتوں میں دیر لگ گئی۔میں نے نواب خان سے کہا چلو وقت ہو گیا ہے۔حضرت صاحب تو ہمارا انتظار نہ کریں گے۔وقت پر مکان مباحثہ پر پہنچ جائیں گے۔ہم جلدی جلدی وہاں پہنچے۔دیکھا کہ حضرت صاحب گاڑی پر سوار ہو رہے ہیں۔عرض کیا گیا۔انتظام پولیس کا نہیں ہے۔آپ نے فرمایا۔ہمیں کیا پر واہ۔ہمارا انتظام خدا کرے گا۔ہم ضرور جائیں گے ، رک نہیں سکتے۔آپ وہاں پہنچے۔حضور کے ساتھ گیارہ آدمی ایک لڑکا غرضیکہ صرف بارہ آدمی تھے۔ادھر مخالف لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور فساد کا بھی سخت اندیشہ تھا۔مگر حضور کے چہرہ پر ذرہ بھی خوف یا ملال نہ معلوم ہو تا تھا۔آپ بہادروں کی طرح ان کے درمیان جاپہنچے۔کسی مخالف کی کوئی شرارت نہ چلی۔خدا نے ہر شریر کی شرارت سے حضور کو بچایا۔جس دن کرم دین والے مقدمہ کی آخری تاریخ مجسٹریٹ کے ہاں تھی۔چونکہ ہم لوگوں کو معلوم تھا کہ مجسٹریٹ حضرت صاحب سے عداوت رکھتا پولیس تھے یا کوئی اور عہدہ دار تھے ذکر کیا۔انہوں نے کہا۔ہم خوب انتظام ہے۔اس لئے جماعت کے لوگوں کو بہت خوف تھا۔مگر میں نے دیکھا۔امن کا رکھیں گے۔غرض جس دن مباحثہ ہونا تھا۔میں اور چوہدری نواب خان امیر علی شاہ کے پاس گئے۔مگر انہوں نے کہا افسوس ہے ہم کچھ انتظام حضور کے چہرہ مبارک پر ذرہ بھی آثار ملال و خوف نہ تھے۔آپ کچھری سے باہر شملتے رہے میں ساتھ تھا۔آپ نے مجھ سے یہ گفتگو فرمائی کہ۔