سیرت احمد — Page 10
7 6 روایت ۳ حضرت منشی اروڑے خانصاحب ایک دفعہ حضرت صاحب نے گورداسپور جانا تھا۔جب حضور یہاں سے چلے۔ساتھ چلنے والے بھی اور دوسرے لوگ بھی ساتھ ہو لئے۔جب مڑی کے پاس پہنچے۔حضور نے ساتھ چلنے والوں کو فرمایا۔چلو آگے۔میں اب یکہ میں سوار ہو کر آتا ہوں۔تم چلو۔واپس ہونے والوں کے ساتھ مصافحہ کر کے فرمایا۔جاؤ واپس۔میں اب آگے جاتا ہوں۔صرف میں اور یکہ والے ساتھ رہے۔مجھے حضور نے ٹھہرا لیا تھا۔جب سب چلے گئے۔میں قریب چاہ سے پانی لایا۔حضور قضاء حاجت کے بعد تشریف لائے۔اور فرمایا اب یکہ میں سوار ہو جاؤ۔اور چلو چلیں۔میں نے عرض کیا۔حضور مجھے اپنی لڑکی کو ملنے جانا تھا۔یہاں تو دیر ہو گئی۔اب وہاں جانا واپس آنا پھر حضور کے ساتھ شامل ہونا مشکل ہے۔آپ نے فرمایا تم یکہ میں سوار ہو کر چلو اور فارغ ہو کر بٹالہ پہنچو۔میں پیدل آتا ہوں۔میں نے اصرار کیا بڑا اصرار کیا۔آپ نے فرمایا الامر فوق الادب میں یکہ میں سوار ہو کر چلا گیا۔چنانچہ لڑکی کو بٹالہ مل کر میں راستہ پر آیا۔سینکڑوں آدمی منتظر کھڑے تھے۔بٹالہ کے راستہ کی طرف جب میں یکہ لیکر باہر آیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ خدا کا محبوب ہاتھ میں چھڑی لیکر تن تنہا پیدل چلے آرہے ہیں۔آپ کی شفقتوں کو ہم کیا کیا بیان کریں۔زبان بیان سے قاصر ہے۔روایت ۴ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ کو الہام ہوا۔ملا وامل یہودا اسکر یوطی ہے۔شرمیت آخر وقت تک حضرت صاحب کے پاس آیا کرتا تھا۔آپ اندر دالان میں بلا کر اس کے ساتھ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک گفتگو کرتے رہتے۔اسی دالان کے نصف میں پردہ کپڑے کا ہو تا تھا باقی نصف میں گھر کے لوگ۔روایات ۵ حضرت منشی اروڑے خانصاحب جن دنوں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا۔ایک دن مجسٹریٹ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود کو سزا دے دے اور وہ مجسٹریٹ دلی کینہ رکھتا تھا۔مگر خدا کی بھی عجیب شان ہے کہ دفعتہ حضرت صاحب بیمار ہو گئے۔اور بیماری کے سبب ڈاکٹر نے کچھری جانے سے روک دیا اور اسی طرح وقت ٹل گیا۔ورنہ قبل ازیں کئی دوستوں نے منع کیا تھا کہ حاکم کا ارادہ بد ہے۔حضور صبح کھری نہ جائیں مگر حضور نے انکار فرما دیا۔ایسا نہیں ہو سکتا۔خدا ہر وقت ہمارا نگہبان ہے۔ہم نہیں رک سکتے۔حضور کی عادت تھی کہ جس وقت حضور کو معلوم ہو تاکہ فلاں الہام اسی طرح پورا ہوتا ہے۔خواہ اس کے مخالف لاکھ دنیاوی اسباب ہوں یا ظاہرا طور پر ناکافی معلوم ہوتے ہوں یا بے عزتی کا خطرہ ہو۔آپ ہر گز نہ گھبراتے