سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 83
سيرة النبي عمال 83 جلد 4 کے شاگرد۔مگر اب ایسے لوگ ہم میں موجود نہیں رہے۔میں نے کہا الہی ! دنیا کو کیا ہو گیا ہے یہ دل کے اندھے آنکھوں کے اندھوں پر اور دل کے بہرے کانوں کے بہروں پر بنتے ہیں۔یہ بدصورت اور کریہہ المنظر لوگ ان اپاہجوں کے حُسن کو کیا جانیں جن کے دل تیرے نور سے منور اور جن کے سینے تیری محبت کے پھولوں سے رشک صد مرغزار بن رہے ہیں۔آہ! میں کس طرح مانوں کہ تو بھی بنیوں کی طرح یہ ہے کہ کس کی تھیلی میں کیا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔مگر میرے خیالات کی روکو پھر اُسی عقدہ کشا آواز نے روک دیا۔وہ ناز و رعنائی سے بلند ہوئی۔اس ناز سے کہ کسی معشوق کو کب نصیب ہوا ہوگا ، اس شان سے کہ کسی بادشاہ کو خواب میں بھی حاصل نہ ہوئی ہوگی اور اس نے کہا کہ اے کام کرنے والو! اے خدا کی راہ میں جانیں قربان کرنے والو! مت خیال کرو کہ خدا کے حضور میں تم ہی مقبول ہو اور اس کے انعامات کے تم ہی وارث ہو یا درکھو کہ کچھ تمہارے ایسے بھائی بھی ہیں کہ جو بظاہر ان عمل کی وادیوں کو نہیں طے کر رہے جن کو تم طے کر رہے ہو ان کٹھن منزلوں میں سے نہیں گزر رہے جن میں سے تم گزر رہے ہو۔لیکن پھر بھی وہ تمہارے ساتھ ہیں تمہارے شریک ہیں، تمہارے ثوابوں کے حصہ دار ہیں 16۔اور خدا تعالیٰ کے ایسے ہی مقرب ہیں جیسے کہ تم۔میں نے دیکھا نیکوکاروں کی وادی میں ایک عظیم الشان ہلچل پیدا ہوئی اور سب بے اختیار چلا اٹھے کہ کیوں ایسا کیوں ہے؟ اس مقدس آواز نے جواب دیا اس لئے کہ گوان کے ہاتھ پاؤں بوجہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ معذوریوں کے تمہارے ساتھ شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے مگر ان کے دل تمہارے ساتھ ہیں۔جب تم عمل کی لذتوں سے مسرور ہو رہے ہوتے ہو وہ غم اور حرمان کے تلخ پیالے پی رہے ہوتے ہیں۔بے شک جام مختلف ہیں، بے شک شراب جدا جدا ہے لیکن کیف میں کوئی فرق نہیں۔نتیجہ ایک ہی ہے۔تم جس مقام کو پاؤں سے چل کر پہنچتے ہو وہ دل کے پروں سے اڑ کر جا پہنچتے ہیں۔ان کو نا پاک مت کہو جو ان سے نیک ہیں وہ تم میں