سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 71

سيرة النبي علي 71 جلد 4 لوگوں کو اس کی انتظار تھی اور وہ اپنی روحانی آنکھوں سے ہی دیکھ کر اس کے عاشق ہو رہے تھے۔مجھے موسی کی باتوں میں بھی یہ جھلک نظر آئی مگر وہاں ایک فلسفی بولتا ہوا مجھے دکھائی دیا اور داؤد کے نغموں میں عشق کا ترنم اور محبت کا سوز پایا جاتا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا داؤد نے ایک ہی وقت میں سورج چاند کو دیکھا۔کبھی ایک کے جلال کو دیکھتے اور کبھی دوسرے کے جلال کو۔وہ ایک کی قوتِ عاکسہ پر عش عش کرتے تو دوسرے کی قوت منعکسہ پر۔میری روح یہود کے بزرگوں کے حالات معلوم کر کے بے حد مسرور ہوئی اور میں نے خیال کیا یہاں سے مجھے میری بے چینی کا علاج ملے گا اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کا خیال ہندوؤں اور بدھوں اور زرتشتیوں کے بزرگوں کے متعلق کیا ہے؟ میری حیرت کی حد نہ رہی جب انہوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا کہ آپ ان لوگوں کے دھوکا میں نہ آئیں ، وہ سب گمراہ لوگ تھے۔الہام تو صرف عبرانی میں ہو سکتا ہے، خدا تعالیٰ کی زبان بھی عبرانی ہے اور جنت کی زبان بھی عبرانی اور فرشتے بھی عبرانی زبان ہی بولتے ہیں اور ان لوگوں کا دعوی تو سنسکرت اور پراکرت اور پہلوی زبانوں میں الہام کا ہے، ان کے دعوے تو بالبداہت غلط ہیں۔بعض لوگوں نے احتجاج کیا کہ شیطان کی زبان بھی تو آپ کے نزدیک عبرانی تھی۔پھر جب شیطان سنسکرت، پراکرت اور پہلوی جاننے والوں کے دلوں میں وسوسے ڈال لیتا تھا تو فرشتے نیک باتیں کیوں نہیں ڈال سکتے تھے ؟ اور جب کہ وہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی مخلوق تھے تو ان کے لئے خدا تعالیٰ نے کیا کیا ؟ مگر انہوں نے ان باتوں کی طرف توجہ نہ کی اور کہا سب مخلوق ایک سی نہیں ہوتی۔ہم خدا کی چنیدہ قوم ہیں ہم اور دوسرے برابر نہیں ہو سکتے۔میرا دل پھر اندر ہی اندر بیٹھنے لگا۔مجھے پھر نور غائب ہوتا ہوا اور تاریکی پھیلتی ہوئی نظر آئی اور میں افسردہ دلی سے مسیحیوں کی طرف مخاطب ہوا۔میں نے عالم خیال میں ان سے بھی مسیح کے متعلق سوال کیا اور انہوں نے جو حالات ان کے سنائے وہ ایسے دردناک تھے کہ میری آنکھوں