سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 70

سيرة النبي علي 70 جلد 4 اور اس قول میں اپنے بزرگ سردار کی ہتک محسوس کی اور کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوؤں کا تعلق تو بد ارواح سے ہے۔آپ نے نہیں سنا کہ ان کا تعلق دیوتا سے ہے اور اندر سے۔اور اگر آپ ہماری کتب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ بدار واح کے نام ہیں۔پھر آپ نے کس طرح ان لوگوں کے بزرگوں کو ہمارے آقا سے مشابہت دی۔میری حیرت جو دوسری اقوام کے رویہ سے پہلے ہی ترقی پر تھی اور بھی بڑھ گئی اور میں تعجب و حیرت سے دوسری قوموں کی طرف متوجہ ہوا۔میں نے یہود کو مخاطب کیا اور ان سے ان کے بزرگوں کے حالات دریافت کئے۔انہوں نے ایک لمبا سلسلہ بزرگوں کا پیش کیا۔انہوں نے دنیا کی ابتدا آدم سے بیان کی اور نوح کے طوفان اور ان کی فتوحات کا ذکر کیا پھر ابراہیم اور اس کی کامیابیوں اور الحق اور یعقوب اور یوسف اور موسی اور ہارون اور داؤد اور یسعیاہ اور عزرا اور ان کے علاوہ بیسیوں اور بزرگوں کے کارناموں کا ذکر کیا۔انہوں نے خصوصیت سے موسی کا ذکر کیا کہ وہ بہت بڑے نبی تھے اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں شریعت تکمیل کو پہنچی۔اور انہوں نے کہا کہ ان کی شریعت کے احکام ایسے کامل ہیں کہ جب تک زمین و آسمان قائم ہیں کوئی شخص ان کا ایک شعثہ بھی مٹا نہیں سکتا۔میں نے دیکھا اس سلسلہ میں ابراہیم اور موسی اور داؤد خاص شان کے انسان تھے، ابراہیم کے حالات تو ایسے تھے کہ دل محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہو جاتا تھا اور موسٹی کی قومی تربیت کی جد و جہد اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بچہ کی سی سادگی کے ساتھ ایسا رجوع ایسا دلکش نظارہ تھا کہ وہاں سے ہلنے کو دل نہ چاہتا تھا مگر داؤد کا عشق بھی کچھ کم ولولہ انگیز نہ تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ داؤد کے ہر ذرہ میں محبت کی بجلی سرایت کر گئی تھی اور ان کی آواز کی ہر ہر میں موسیقی کی روح ناچتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ان کے درد انگیز نوحے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کی گہرائیوں کا پتہ دیتے تھے بلکہ ان کے عشقیہ گیتوں میں ایک ایسے معشوق کی محبت کا بھی اظہار تھا جو ابھی دنیا میں پیدا نہ ہوا تھا مگر اہل بصیرت