سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 66
سيرة النبي عمال 66 جلد 4 کھڑے ہو کر ذکر الہی میں مشغول ہیں۔اور ایک اور جماعت کو میں نے گرمی میں بڑے بڑے الاؤ جلا کر ان میں بیٹھے ہوئے یا محبوب میں ہوش وحواس سے گم پایا۔اور بعض کو میں نے دیکھا کہ انہوں نے عہد کر لیا کہ ہم شادیاں نہیں کریں گے اور عورت خاوند کا اور مرد بیوی کا منہ نہ دیکھے گا۔اور بعض نے کہا کہ وہ اچھی چیزیں نہیں کھائیں گے بلکہ ہر سال اپنی مرغوب اشیاء میں سے بعض کو ترک کرتے چلے جائیں گے۔میں نے ان لوگوں کو اس حال میں دیکھا اور میرا دل تردد میں پڑ گیا۔ایک طرف ان کی شاندار قربانی مجھے ان کی قدر دانی پر مائل کرتی تھی اور دوسری طرف میرا دل سوال کرتا تھا کہ کیا خدا تعالیٰ نے تمام حسن اور خوبی اس لئے پیدا کی ہے کہ اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اور اسے ترک کیا جائے؟ اور کیا اس سے خود اللہ تعالیٰ پر اعتراض نہیں آتا کہ اس نے سب کچھ سلبی فائدے کیلئے پیدا کیا ہے اور حقیقی فائدے کیلئے کچھ بھی نہیں ؟ میں اسی فکر میں تھا کہ میں نے پھر وہی آواز بلند ہوتی ہوئی سنی۔مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے اس آواز کے مالک کی نگاہ دلوں کی گہرائیوں تک پہنچتی ہے اور انسانی فطرت کی گہرائیاں اس پر روشن ہو جاتی ہیں یا جیسے کوئی دلوں کی واقف اور انسانی خواہشات سے آگاہ ہستی سب کچھ دیکھ کر اسے بتاتی جاتی ہے۔اور میں نے اس آواز کو جس کی شیرینی کو کوئی شیرینی نہیں پہنچ سکتی اور جس کی دلکشی کے مقابل دنیا کے سارے راگ بے لطف نظر آتے ہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ نادانو ! تمہارے ظاہری تقدس تمہارے کام نہیں آ سکتے۔تقدس یہ نہیں کہ تم اپنے جسم کو تکلیف دو۔نقدس یہ ہے کہ تمہارے دل صاف ہوں اور بہادر وہ نہیں جو مخالفت سے خائف ہو کر بھاگ جائے۔بہادر وہ ہے جو مخالفت کے میدان میں کھڑا ہو کر دشمن کی بات تسلیم نہ کرے۔خدا نے جس چیز کو پاک بنایا ہے اس سے گناہ پیدا نہیں ہو سکتا۔گناہ تو خدا کے بتائے ہوئے حدود کو توڑنے سے پیدا ہوتا ہے۔اور اے نادانو ! کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے تم پر اپنے ہی حق تو مقرر نہیں کئے۔جب اس نے تم کو مدنی الطبع بنایا ہے تو اس نے تم پر