سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 65
سيرة النبي علي 65 جلد 4 نہ پاسکے گا۔سوائے اس کے کہ خدا کے فضل کے ماتحت اس کی بخشش ہو اور خدا تعالیٰ خود کسی کا بوجھ اٹھا لے۔پس یہ مت کہو کہ انسان فطرتا ناپاک ہے ہاں وہ جو خدا کی دی ہوئی خلعت کو خراب کر دے وہ ناپاک ہے ورنہ خدا کے بندے اس کے قرب کے مستحق ہیں اور قرب پا کر رہیں گے۔میں نے دیکھا اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ دلوں کی کھڑکیاں گھل گئیں۔خالق اور مخلوق کے تعلقات روشن ہو گئے اور مایوسیاں امید سے بدل گئیں لیکن ساتھ ہی خشیت الہی امید کے ہم پہلو آ کر بیٹھ گئی اور ہر غلط اتکال اور نامناسب استغنا کا دروازہ بند ہو گیا۔جو ہمت ہار بیٹھے تھے وہ از سر نو شیطان سے آزادی کی جدو جہد میں لگ گئے اور جو حد سے زیادہ امید لگائے بیٹھے تھے اور دوسروں پر اپنا بوجھ لادنے کی فکر میں تھے انہوں نے دوڑ کر اپنے بوجھ اپنے کاندھوں پر رکھ لئے۔دنیا کی بے چینی دور ہوگئی اور اطمینان دلوں میں خیمہ زن ہو گیا اور اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھا کہ انسانیت خوشی سے اچھل رہی تھی۔میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی۔ویسی ہی جیسے ایک معشوق سے دور پڑے ہوئے عاشق کے سینے سے نکلتی ہے۔میں نے دور افق میں بعد زمانی کی غیر متناہی روکوں کو دیکھا اور حسرت سے سر نیچے ڈال دیا۔پھر جذبات سے بھرے ہوئے دل سے میری زبان سے نکلا یہ آواز انسانیت کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔نسل انسانی کے لئے رحمت میرے دل میں خیال گزرا کہ جس طرح یہ آواز انسانیت کے لئے رحمت ثابت ہوئی ہے کیا انسانوں کے لئے بھی رحمت ہے؟ کیا انسان جسمانی لحاظ سے بھی اس سے کوئی نفع حاصل کرتا ہے اور اس کا محتاج ہے؟ میں اسی خیال میں تھا کہ میں نے دیکھا کچھ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار اُلٹے لٹکے ہوئے ہیں اور رات اور دن اسی حالت میں عبادت کرتے ہیں۔اور میں نے کچھ اور کو دیکھا کہ سخت سردی میں سرد پانیوں میں