سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 48
سيرة النبي علي 48 جلد 4 صلى الله پہنچائے۔اس غرض کے لئے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے پاس گیا۔اسی دوران میں جب رسول کریم ﷺ کے حالات معلوم کرنے کے لئے میں مجالس مولود میں پہنچا تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔اس کے بعد اس نے وہاں کا ایسا گندہ نقشہ کھینچا کہ میں شرم کے مارے پانی پانی ہو گیا۔کہنے لگا مجھے وہاں بتایا جانے لگا کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں، آنکھیں ایسی خوبصورت تھیں، قد اس قسم کا تھا، رنگ اس طرح کا تھا۔بھلا مجھے ان باتوں سے کیا۔اس نے ان باتوں کو اس طرح بنا بنا کر پیش کیا کہ میری آنکھیں اس کے سامنے جھک گئیں۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ لوگوں کے دل میں رسول کریم علیہ کی اصل محبت نہیں رہی۔اگر وہ آپ کے حالات پڑھتے ، قرآن مجید پر غور کرتے تو وہ ان باتوں کی طرف کبھی نہ جاتے۔مگر چونکہ حالات معلوم کرنے اور قرآن مجید پر غور کرنے میں محنت صرف کرنی پڑتی ہے۔مگر یہ معلوم کرنا اور یاد رکھنا بالکل آسان ہے کہ آپ کا رنگ سفید تھا داڑھی گھنی تھی اس لئے انہی کو بیان کرنا شروع کر دیا۔یا رسول کریم ﷺ کے متعلق اس قسم کی من گھڑت کہانیاں سنانی شروع کر دیں کہ ایک گوہ آئی اور اس نے آپ کو سجدہ کیا یا درخت اور پتھر آپ کے سامنے سر بسجو د ہو گئے۔ایسی کہانیاں چونکہ بچوں تک کو بھی جلد یاد ہو جاتی ہیں اس لئے لوگوں نے رسول کریم کے فضائل اسی رنگ میں بیان کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ دیکھ لو کسی بچے کو قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر سمجھاؤ۔وہ سن لے گا لیکن جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا سنا؟ تو کہے گا یاد نہیں۔لیکن اسے کوئی کہانی سنا دو اور تیسرے دن سننا چاہو تو ایک ایک حرف سنا دے گا۔چونکہ رسول کریم ع کی قربانیاں، آپ کے اخلاق اور آپ کی پاکیزہ زندگی کے واقعات معلوم کرنے کے لئے محنت کی ضرورت تھی اور کہانیاں بیان کرنا اور یا د رکھنا آسان تھا اس لئے لوگوں نے کہانیاں اور قصے بیان کرنے شروع کر دیئے۔پس یہ لوگوں کی سستی اور کوتاہی کا ثبوت ہے، رسول کریم ﷺ کی محبت نہیں۔اگر ہم بھی رسول کریم ﷺ کے متعلق اسی قسم کی باتوں میں الجھ جائیں اور