سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 47

سيرة النبي علي خدانظر آیا کرتا ہے۔47 جلد 4 پس صحیح طریق اختیار کرو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی محبت تمام نیکیوں کی جڑ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے سب چیزوں کی جڑ تقوی اللہ ہے باقی اللہ تعالیٰ کے نبی ، رسول، خلفاء، مجدد، صدیق ، صلحاء اور اولیاء سب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے ذرائع ہیں۔ہمارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ بیوقوفی ہو گی اگر چھوٹے کی محبت کے لئے بڑے کی عظمت کو قربان کر دیا جائے۔پس جلوس میں تصنع نہیں ہونا چاہئے ، سادگی اور اخلاص ہونا چاہئے۔مجھے اس وقت یاد نہیں مگر کئی شعر ایسے پڑھے جاتے ہیں جن میں شرک کی بو ہوتی ہے ان کا پڑھنا ہرگز درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام پڑھو۔در مشین وغیرہ میں سے کچھ حصوں کا انتخاب کر لو۔اس میں ضرور مشکلات بھی پیدا ہوں گی۔مثلاً یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں لڑکوں کو یاد کرانی پڑیں گی۔لیکن اس کے مقابلہ میں جو فائدہ ہے وہ بہت بڑا ہے۔اس سے نہ صرف ظاہری لحاظ سے لوگوں پر عمدہ اثر پڑے گا اور وہ رسول کریم علیہ کے کمالات سے واقف ہوں گے بلکہ باطنی طور پر بھی فائدہ ہوگا۔اور لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہو گا کہ ہم بھی ایسے صلى الله صلى الله اشعار لکھیں جن سے رسول کریم علیہ کے حالات لوگوں کے سامنے آئیں۔ایک نعت کہنے کا پرانا طریق تھا۔اور وہ یہ کہ اشعار میں ذکر کیا جاتا رسول کریم ﷺ کا ناک ایسا خوبصورت تھا ، کان ایسے تھے، رنگ ایسا تھا، قد ایسا تھا۔اس سے غیر مسلموں میں مسلمانوں کو سوائے ندامت کے اور کچھ حاصل نہ ہو سکتا تھا۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ کہیں باہر گیا تو ایک ہندو مجھ سے ملنے آیا۔اس نے مجھے اس قدر شرمندہ کیا کہ میں پانی پانی ہو گیا۔اور گو وہ غیر احمدیوں کا طریق عمل تھا مگر مسلمان ہونے کے لحاظ سے مجھے سخت ندامت ہوئی۔وہ کہنے لگا مجھے ایک ایسے بندہ کی تلاش تھی جو مجھے خدا تک