سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 46
سيرة النبي عمال 46 جلد 4 کرنے والی بات ہے۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے کئی بار سمجھایا پھر بھی یہ بیہودگی نظر آ جاتی ہے اور ہمیشہ سے جلوس میں ایسے تختے نظروں کے سامنے آتے رہتے ہیں جن پر يَا مُحَمَّدُ لکھا ہوتا ہے۔نہ معلوم جو منتظم ہیں وہ قرآن مجید اور سلسلہ کے لٹریچر کو نہیں پڑھتے اور اس امر کو بھی نہیں سمجھتے کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت کی غرض کیا تھی۔یا نہ معلوم کیا بات ہے کہ وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔کیسے اچھے شعر ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی، اردو اور عربی میں رسول کریم ﷺ کی شان میں کہے ہیں۔انہیں سن کر کوئی انسان رسول کریم ﷺ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ اشعارلڑکوں سے پڑھاؤ۔حضرت مسیح موعود کی نظمیں انہیں یاد کراؤ۔یہ کیا کہ يَا مُحَمَّدُ الله يَا مُحَمَّدُ کہنا شروع کر دیا۔تم يَا مُحَمَّدُ ہزار سال کہتے رہو۔رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے اب وہ دنیا میں نہیں آ سکتے۔تم يَا مُحَمَّدُ کی بجائے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرو جو تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اور تم ابھی پوری بات بھی نہیں کہہ چکے ہو گے کہ وہ تمہارے قریب آجائے گا۔وہ خود کہتا ہے فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ 4۔میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کا میں جواب دیتا ہوں۔مگر جو قریب ہی نہیں اور جس کے اور ہمارے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل ہے اسے پکارنا کیا اور اس سے جواب کی امید رکھنا کیا ؟ پس ایک تو جلوسوں میں ایسا رنگ مت اختیار کرو جو تھیر والا ہو یا جس میں مشر کا نہ طریق پایا جاتا ہو۔ہمیں اگر رسول کریم ﷺ محبوب ہیں تو اسی لئے کہ آپ نے دنیا میں تو حید قائم کی۔ورنہ ان میں اور دوسرے انسانوں میں بظاہر کیا فرق ہے۔آپ نے خدا کی بڑائی قائم کی پس وہ خود بھی بڑے ہو گئے۔اور دراصل جتنا جتنا کوئی شخص خدا کی بڑائی ظاہر کرتا ہے اسی صلى الله قدر وہ خود بھی بڑا بنتا جاتا ہے۔رسول کریم علیہ نے چونکہ اپنی ذات کو مٹا دیا اور چونکہ آپ نے اپنے نفس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی آپ کو لا زوال بزرگی عطا کی۔کیونکہ جب انسانی وجود مٹ جائے تب خدا ہی