سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 45

سيرة النبي م 45 جلد 4 فوت ہو گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ خدا زندہ ہے 3۔اسی طرح جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ تو یا اللہ ہی کہے گا یا مُحَمَّدُ کبھی نہیں کہے گا۔کیونکہ جس چیز کو بھی ہم بغیر کسی خاص کیفیت کے یا کہہ کر مخاطب کریں بے فائدہ اور لغو بات ہے۔ہاں کیفیت کی حالت میں ہم کہہ سکتے ہیں اور وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ تنہائی کی گھڑیاں ہوتی ہیں اور قوت متخیلہ کام کر رہی ہوتی ہے۔اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے اشعار میں بعض جگہ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول کریم ﷺ کا قرب اس قدر محسوس کیا کہ گویا آپ کو سامنے نظر آگئے۔اور اس کشفی حالت کے لحاظ سے آپ نے یا نَبِی اللہ وغیرہ الفاظ کہ دیئے۔مگر کون بیوقوف شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ وہ لڑ کے جو جلوس میں شامل ہوتے اور اشعار پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ ایسے روحانی مقام پر اُس وقت فائز ہوتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا انہیں انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے اور وہ بے اختیار يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّد ﷺ کہہ رہے ہوتے ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ یہ تصنع ہے، بناوٹ ہے اور کچھ نہیں۔وہ کیفیت جس میں پیدا ہو وہ بے شک کہہ لے۔مگر کیا جس میں یہ کیفیت پیدا ہو وہ لوگوں سے پوچھا کرتا ہے کہ میں کہوں یا نہیں ؟ اس کے منہ سے تو آپ ہی بات نکل جاتی ہے۔ایسی کیفیت خلوتوں اور تنہائی کی گھڑیوں میں بعض خاص لوگوں پر طاری ہوتی ہے، جلوسوں میں نہیں آسکتی۔پھر جب یہ کیفیت آتی ہے تو تصنع نہیں ہوتا۔یہ کیفیت جب جلوس میں بھی طاری ہو تو کشفی حالت ہی ہوگی۔پس ایسے تمام اشعار جن میں خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف باتیں پائی جاتی ہوں ان کے پڑھنے میں رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کی کوئی ہتک نہیں ہو سکتی۔گویا آپ کا مقصد توحید پرستی نہیں تھی بلکہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ نے لوگوں سے حضرت عیسٹی کی پرستش کی بجائے اپنی پرستش شروع کرا دی اور یہ ایک نہایت ہی نا معقول اور رسول کریم ﷺ کی تک۔