سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 39

سيرة النبي عمال 39 جلد 4 میں نہ آنا۔اس طرح نواب صاحب مار دیا کرتے ہیں۔اسے ایک سڑک کے کنارے کھڑا کر دیا گیا۔اور جب نواب صاحب اپنے ہمراہیوں سمیت گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے اور اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ تو وہ کہنے لگا میں امام حسن ہوں۔اس پر وہ گالیاں دیتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔اور ملازموں نے پھر اسے کئی قسم کے لالچ دینے شروع کئے۔مگر اب چونکہ وہ اپنی آنکھ سے بھی نواب صاحب کا حال دیکھ چکا تھا اس لئے وہ اور زیادہ پختہ ہو گیا۔لوگوں نے سمجھا کہ اب یہ پھنس گیا ہے۔نواب صاحب کو اطلاع دی گئی کہ اب اسے سمجھا دیا گیا ہے۔وہ یہی کہے گا کہ میں شمر ہوں۔مگر جب پھر نواب صاحب گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس جوش سے آئے کہ ابھی اس کی بوٹیاں کر دیں اور اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا میں امام حسین ہوں۔نواب صاحب پھر واپس چلے گئے۔اسی افراتفری میں وہ وہاں سے بھاگا اور انگریزی گورنمنٹ کی حدود میں پناہ گزیں ہو گیا۔گورنمنٹ نے شکایت پہنچنے پر جب معاملہ کی تحقیق کی اور اسے درست پایا تو اُسی وقت سے وہاں انگریز وزیر جانے لگا اور نواب صاحب کے اختیارات میں کمی کر دی گئی۔اب دیکھ لو بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔کجا یہ کہ لوگ اس واقعہ کو محبت کے رنگ میں سنتے اور کجا یہ کہ پھر یہ ایک پیشہ بن گیا۔رلانے والے بھی بطور پیشہ رلاتے ہیں اور بعض رونے والے بھی بطور پیشہ کے روتے ہیں۔چنانچہ ایک ایک آنے چھ چھ پیسے بلکہ پلاؤ کی ایک رکابی پر رونے والے مل جاتے ہیں۔مگر کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اسلام کا یہی منشا تھا کہ لوگ اس واقعہ کا ذکر کر کے روئیں یا رلائیں یا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس سے غیر مذاہب والوں پر عمدہ اثر پڑ سکتا ہے؟ وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ پاگل ہیں جو رو رہے ہیں۔اور واقعہ میں جولوگ ے لے کر روئیں ان کے رونے کا دلوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔بے شک ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو عشق و محبت سے کام کرتے اور روتے ہیں۔اور گو ہم انہیں غلطی پر کہہ سکتے ہیں لیکن پاگل نہیں کہہ سکتے۔مگر جو لوگ پیسے لے کر ماتم میں شریک ہوتے ہیں