سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 38
سيرة النبي عمال 38 جلد 4 ابتدا میں محض امام حسین کی شہادت کا ذکر کر کے لوگ ایک دوسرے کے دل میں محبت قائم رکھتے۔پھر ان میں حال کھیلنے والے آگئے۔اور جب ان کی وجہ سے لوگوں نے رونا شروع کیا تو واعظوں میں سے کمزور طبقہ نے خیال کیا کہ اس طرح تو بڑی شہرت ہوتی ہے لوگوں کو خوب رلانا چاہئے۔تب انہوں نے باتوں میں مبالغہ شروع کر دیا تا کہ جو پہلے نہیں روتے وہ بھی رو پڑیں۔پھر مبالغہ آمیز باتیں سن کر بھی جو لوگ نہیں روتے تھے انہوں نے طعن و تشنیع اور لوگوں کے ڈر سے جھوٹا رونا شروع کر دیا۔حتی کہ ترقی کرتے کرتے واعظوں نے لوگوں کو رلانے اور لوگوں نے رونے کی مشقیں شروع کر دیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل حقیقت جاتی رہی اور کچھ کا کچھ لوگوں میں باقی رہ گیا۔ہندوستان میں ایک ریاست ہے۔اس میں کچھ عرصہ پہلے واقعات کربلا ایک نئے رنگ میں دکھائے جاتے تھے۔باقاعدہ ایکٹ کیا جاتا اور تمام واقعات کو عملی صورت میں دکھایا جاتا۔چنانچہ ہر سال محرم کے دنوں میں وہاں کے نواب صاحب اپنے دربانوں اور حاشیہ نشینوں کو ساتھ لے کر گھوڑوں پر سوار ہو جاتے اور سڑک پر کسی ایسے قیدی کو کھڑا کرنے کا حکم دیتے جسے موت کا حکم مل چکا ہوتا اور اس قیدی کو سکھایا جا تا کہ جب نواب صاحب تجھ سے پوچھیں کہ تو کون ہے؟ تو تو کہنا میں شمر ہوں یا یزید ہوں۔نواب صاحب اپنے ساتھیوں سمیت گھوڑے دوڑاتے ہوئے آتے اور اس سے پوچھتے تو کون ہے؟ جب وہ کہتا میں شمر ہوں یا یزید ہوں تو اسے مار دیا جاتا۔گویا سمجھا جاتا کہ اس رنگ میں انہوں نے حضرت امام حسین کا بدلہ لے لیا ہے۔چالیس پچاس سال کا عرصہ ہوا کوئی قیدی تھا جسے موت کا حکم مل چکا تھا۔اسے بھی سکھایا گیا کہ جب نواب صاحب تیرے پاس پہنچیں اور پوچھیں کہ تو کون ہے؟ تو تو کہنا کہ میں شمر ہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تجھے چھوڑ دیں گے۔لیکن اس کے رشتہ داروں کو کسی طرح نواب صاحب کی حرکت کا علم تھا۔انہوں نے اس سے کہا کہ لوگوں کے دھوکا