سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 480
سيرة النبي علي 480 جلد 4 رسول کریم علیہ کا بچپن حضرت مصلح موعود نے 11 مئی 1939 ء کو صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور صاحبزادی نصیرہ بیگم صاحبہ کے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :۔الله یہاں ایک خاندان کے آگے پیچھے دو شادیاں ایسی ہوئی ہیں جن میں دونوں لڑکیاں بے ماں ہیں۔یعنی میری لڑکی امتہ القیوم کی والدہ بھی فوت ہو چکی ہے اور نصیرہ بیگم کی والدہ بھی عرصہ ہوا فوت ہو چکی ہے۔ان شادیوں کا تصور کر کے میرا ذہن اس طرف گیا کہ بے شک یہ جذبات کو ابھارنے اور افکار میں ایک انگیخت پیدا کرنے والی چیز ہے مگر اس غم پر غالب آنے کی قوت بھی رسول کریم ﷺ کے نمونہ کو دیکھ کر صلى الله پیدا ہو سکتی ہے اور وہ اس طرح کہ ہماری بچیاں تو بے ماں کی ہیں مگر محمد ﷺ کی والدہ بھی بچپن میں فوت ہو چکی تھیں اور ان کے والد بھی وفات پاچکے تھے اور اس طرح وہ بے باپ اور بے ماں کے تھے۔پھر آپ کو پرورش کرنے والے ایسے لوگ نہیں ملے جیسے پرورش کرنے والے ہماری بچیوں کو ملے ہیں۔گو اپنی نسبت کچھ کہنا معیوب سا دکھائی دیتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی بچی کا اس حد تک خیال رکھا ہے جس حد تک کوئی باپ اپنی بچی کا خیال رکھ سکتا ہے۔اسی طرح میں جانتا ہوں کہ مرزا عزیز احمد صاحب نے بھی اپنی لڑکی کا بہت خیال رکھا ہے مگر محمد رسول اللہ علیہ کی پرورش کرنے والے ان کے چچا تھے اور چچا کے متعلق بھتیجا یہی سمجھا کرتا ہے کہ اگر وہ مجھے پالتا ہے تو مجھ پر احسان کرتا ہے۔اپنی ماں اور اپنے باپ پر تو وہ اپنا حق سمجھتا ہے مگر کسی دوسرے سے اسے چیز مانگتے ہوئے حجاب آتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ میں