سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 476

سيرة النبي عمال 476 جلد 4 صلى الله جب کہ وہی جو اپنے آپ کو لاوارث سمجھتا تھا ، جو اپنے چا کے گھر میں بھی اپنا کوئی حق نہیں سمجھتا اور جسے مکہ والوں نے بھی انتہائی دکھ دیا تھا مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا اور اس نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔تب آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 2۔جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں نے تمہیں معاف کر دیا۔حالانکہ مکہ والوں نے آپ سے جو سلوک کیا تھا وہ ایسا ظالمانہ تھا کہ آج بھی تاریخ میں ان واقعات کو پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ لَا تَشْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے معنے یہ نہیں ہوتے کہ وہ مقام حاصل ہو گیا جو ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کو حاصل تھا۔لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے صرف اتنے معنے تھے کہ رسول کریم علیہ نے انہیں معاف کر دیا۔ور نہ جو مقام ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کو حاصل تھا وہ مکہ والوں کو حاصل نہ ہوا۔مکہ والوں کی تو یہ کیفیت تھی کہ جب رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی کہ جا اور لوگوں کو خدائی عذاب سے ہوشیار کر تو رسول کریم علیہ نے تمام لوگوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ مجھے خدا نے تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے اگر تم خدائی عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو میری آواز سنو اور خدائے واحد کے پرستار بن جاؤ۔اس پر تمام لوگ آپ کو پاگل اور جھوٹا کہتے ہوئے منتشر ہو گئے 3۔اور انہوں نے آپ کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر کی یہ حالت تھی کہ جب رسول کریم ہے نے دعوی نبوت کیا تو اُس وقت وہ تجارت پر باہر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے۔جب آپ مکہ میں واپس آئے اور دو پہر کے وقت سانس لینے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے گھر میں لیٹے تو ایک لونڈی دوڑی ہوئی آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی ہائے ہائے ! تیرا دوست تو آج پاگل ہو گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا کون سا دوست؟ اس نے کہا محمد ( ) اور کون سا۔حضرت ابو بکر کہنے لگے تمہیں کیونکر پتہ لگا کہ وہ پاگل ہو گیا