سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 475

سيرة النبي علي 475 جلد 4 رسول کریم علیہ کی زندگی پر مختصر نظر حضرت مصلح موعود نے 11 مئی 1939 ء کو صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور صاحبزادی نصیرہ بیگم صاحبہ کے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔رسول کریم ﷺ کو ہی دیکھ لو کہ آپ نے کیسے تکلیف دہ حالات میں پرورش پائی۔آپ کے والد آپ کی پیدائش سے ہی پہلے فوت ہو چکے تھے اور آپ کی والدہ آپ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد وفات پاگئیں اور آپ کامل طور پر یتیمی کی حالت میں آگئے۔اس کے بعد آپ کچھ عرصہ تک اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے اور جب وہ وفات پاگئے تو اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آگئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ بڑی محبت اور پیار کا سلوک کیا اور آپ کے جذبات اور احساسات کا ہر طرح خیال رکھا مگر آپ کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ جب آپ کے چچا کے گھر میں کھانا تقسیم ہوتا تو تاریخیں بناتی ہیں کہ آپ کبھی بڑھ کر اپنی چچی سے کھانا نہیں مانگا کرتے تھے بلکہ خاموشی سے ایک کونہ میں کھڑے ہو جاتے۔دوسرے بچے شور مچاتے اور اچھل اچھل کر اپنی والدہ سے چیزیں لیتے مگر آپ ایک گوشہ میں خاموشی کے ساتھ کھڑے رہتے 1۔گویا سمجھتے میرا اس گھر میں کیا حق ہے اگر یہ لوگ مجھے کچھ کھلاتے پلاتے ہیں تو درحقیقت مجھ پر احسان کرتے ہیں ورنہ میرا حق نہیں کہ میں ان سے کچھ مانگ سکوں۔غرض آپ نے اپنے بچپن کا زمانہ انتہائی تکلیف دہ حالات میں گزارا اور پھر بڑے ہوئے تو مکہ والوں نے آپ کو اپنے مظالم کا تختہ مشق بنالیا۔لیکن پھر ایک دن آیا