سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 467

سيرة النبي علي 467 جلد 4 بات نہیں کرنے دیتے تھے لیکن جب سے میری بیوی مدینہ میں آئی ہے وہ بات بات میں مجھے مشورہ دینے لگ گئی ہے۔ایک دفعہ میں نے اُسے ڈانٹا کہ یہ کیا حرکت ہے اگر پھر کبھی تو نے ایسی حرکت کی تو میں تجھے سیدھا کر دوں گا۔تو وہ مجھے کہنے لگی تو بڑا آدمی بنا پھرتا ہے میں نے تو دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کو مشورہ دے لیتی ہیں پھر کیا تو ان سے بھی بڑا ہے کہ مجھے بولنے نہیں دیتا اور ڈانٹتا ہے؟ میں نے کہا ہیں ! ایسا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگی ہاں واقعہ میں ایسا ہوتا ہے۔میں نے کہا تب میری بیٹی کی خیر نہیں۔یہ بات سن کر میں اپنی بیٹی کے پاس گیا اور اُسے کہا دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی بات نہیں کرنی۔اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوال جواب کیا تو وہ کسی دن تجھے طلاق دے دیں گے۔حضرت عائشہ پاس ہی تھیں وہ میری بات سن کر بولیں تو کون ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے معاملات میں دخل دینے والا ، چلو یہاں سے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر ہنس پڑے اور آپ کا غصہ جاتا رہا2 اور حضرت عمرؓ کی بھی اس واقعہ کے سنانے سے یہی غرض تھی کہ کسی طرح آپ ہنس پڑیں اور آپ کی ناراضگی جاتی رہے۔تو بعض قوموں میں یہ رواج ہے کہ وہ سمجھتی ہیں عورت کا یہ حق نہیں کہ وہ مرد کے مقابلہ میں بولے مگر عورت ہے کہ وہ بولے بغیر رہ نہیں سکتی۔اسے کوئی بات کہو وہ اس میں اپنا مشور ہ ضرور پیش کر دے گی کہ یوں نہیں یوں کرنا چاہئے۔پھر خواہ تھوڑی دیر کے بعد وہ مرد کی بات ہی مان لے مگر اپنا پہلو کچھ نہ کچھ اونچا ہی رکھنا چاہتی ہے اور مرد کے مشورہ پر اپنی طرف سے پالش ضرور کرنا چاہتی ہے۔عورتوں کے حقوق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی لئے لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ تم عورت کی روح کو کچلنے کی کوشش نہ کیا کرو۔اس کے اندر یہ ایک فطرتی مادہ ہے کہ وہ مرد سے کسی قدر رقابت رکھتی اور طبعاً ایک حد