سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 466
سيرة النبي علي 466 جلد 4 ایک گاؤں تھا وہاں آپ رہتے اور تجارت وغیرہ کرتے رہتے ، انہوں نے ایک انصاری سے بھائی چارہ ڈالا ہوا تھا اور آپس میں انہوں نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انصاری مدینہ میں آجاتا اور مدینہ کی اہم خبریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن کر حضرت عمرؓ کو جا کر سنادیتا اور کبھی حضرت عمرؓ مدینہ آ جاتے اور وہ انصاری پیچھے رہتا اور آپ اُس کو باتیں بتا دیتے۔غرض جو بھی آتا وہ تمام باتیں معلوم کر کے جاتا اور دوسرے کو بتاتا کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ الہام ہوا ہے، آج آپ نے مسلمانوں کو یہ وعظ فرمایا ہے غرض اس طرح ان کی دینی تعلیم بھی مکمل ہو جاتی اور ان کی تجارت بھی چلتی رہتی۔ایک دن وہ انصاری مدینہ میں آیا ہوا تھا اور حضرت عمرؓ پیچھے تھے کہ عشاء کے قریب اُس انصاری نے واپس جا کر زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا کہ ابن خطاب ہے؟ ابن خطاب ہے؟ حضرت عمر کہتے ہیں میں نے جب اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سنی اور اُس نے زور سے میرا نام لے کر دروازہ کھٹکھٹایا تو میں نے سمجھا کہ مدینہ میں ضرور کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں یہ افواہ زوروں پر تھی کہ ایک عیسائی بادشاہ مدینہ پر حملہ کرنے والا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے سمجھا ہے۔اس بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے چنانچہ میں فوراً اپنا کپڑا سنبھالتا ہوا باہر نکلا اور میں نے اُس سے پوچھا کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں گھبرا کر مدینہ کی طرف چل دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ سے عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ اپنے گھر سے باہر آ گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! لوگ کہتے ہیں آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں میں نے تو کسی کو طلاق نہیں دی۔میں نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ۔پھر میں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ کو میں ایک بات سناؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں سناؤ۔میں نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ہم لوگ مکہ میں اپنے سامنے عورت کو