سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 465
سيرة النبي علي 465 جلد 4 رسول کریم عہ اور عورتوں کے حقوق الله 28 دسمبر 1938ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے سیر روحانی“ کے عنوان سے خطاب فرمایا اس خطاب میں ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ اور عورتوں کے حقوق پر بایں الفاظ روشنی ڈالی :۔غرض خُلِقْنَ مِنْ ضِلع کے یہی معنے ہیں کہ عورت مرد پر اعتراض ضرور کرتی رہے گی ، ان میں محبت بھی ہوگی، پیار بھی ہوگا ، تعاون بھی ہوگا،قربانی کی روح بھی ہو گی مگر روزمرہ کی زندگی میں ان میں آپس میں نوک جھونک ضرور ہوتی رہے گی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو اگر سیدھا کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی 1 یعنی اگر تم چاہو کہ وہ تمہاری بات کی تردید نہ کرے تو اُس کا دل ٹوٹ جائے گا۔اُسے اعتراض کرنے دیا کرو کیونکہ عورت کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر تم بالکل ہی اُس کی زبان بندی کر دو گے تو وہ جانور بن جائے گی اور عقل اور فکر کا مادہ اُس میں سے نکل جائے گا۔یہ تمدن کا ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا۔آپ کا اپنا عمل بھی اس کے مطابق تھا۔چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں سے کسی بات پر ناراض ہو کر گھر سے باہر چلے گئے اور آپ نے باہر ہی رہائش اختیار کر لی۔حضرت عمر کی لڑکی چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیاہی ہوئی تھیں اس لئے انہیں بھی یہ اطلاع پہنچ گئی۔حضرت عمرؓ کا طریق یہ تھا کہ آپ مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ مدینہ کے پاس