سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 32
سيرة النبي عمال 32 جلد 4 آنے والا ہے کہ ان کے ظاہر تو مسلمانوں والے ہوں گے اور باطن کا فروں والے۔ان کی زبانیں اسلام کی مقر ہوں گی لیکن اندرو نے اسلام و قرآن کو دھکے دے رہے ہوں گے۔ان کے علماء ان کو اسلام کی طرف واپس لانے کی جگہ خود اسلام کو عملاً چھوڑ رہے ہوں گے اور دنیا کے پردہ پر بدترین مخلوق ہوں گے۔ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں علماء سے اس قسم کی امید رکھنی کہ وہ صداقت اور حق کی تائید کریں گے خلاف عقل ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کے لئے اہل فارس میں سے ایک شخص کو اُس وقت کھڑا کرے گا جو لوگوں کو اسلام کی طرف واپس لائے گا اور ایمان کو قائم کرے گا3۔یہ بھی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے مستقبل میں سب سے بڑا فتنہ مسیحیت کا فتنہ ہے۔حتی کہ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگ اپنی طاقت اور قوت سے سب دنیا پر چھا جائیں گے۔بلکہ اس فتنہ کا ذکر خود قرآن کریم میں موجود ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَهُم مِّنْ كُلِّ حَدَبِ يَنْسِلُونَ 4 یعنی یا جوج ماجوج سب بلند و بالا مقاموں سے اتر کر دنیا پر چھا جائیں گے اور یا جوج ماجوج کے متعلق بائبل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی لوگ ہیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ یا جوج سے مراد روس اور ماجوج سے مراد ایک زبر دست طاقت ہے جو امن سے جزیروں میں بیٹھ کر حکومت کرتی ہے 5۔یعنی حکومت برطانیہ اور ان دونوں ملکوں کا شاہی مذہب مسیحیت ہے۔پس یہ امر بالبداہت ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی جو خراب حالت رسول کریم علی نے بیان فرمائی ہے وہ اسی فتنہ یعنی مسیحیت کی ترقی کے زمانہ میں ہی ہوئی تھی اور چونکہ مسیحی فتنہ ظاہر ہو چکا ہے بلکہ اب تو اس میں کمزوری کے آثار پیدا ہونے لگ گئے ہیں جیسا صلى الله کہ روس کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ امر ناممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ کے فرمودہ کے مطابق مسلمانوں میں خرابی پیدا نہ ہو چکی ہو۔وہ لوگ جو دین اسلام کے دشمن ہیں اور اس کی سچائی دیکھنا نہیں چاہتے اس