سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 445

سيرة النبي علي 445 جلد 4 آئیں گے اور اس مدرسہ سے امن کا سبق سیکھیں گے۔پھر یہ کہ اس مدرسہ کی تعلیم کیا ہوگی؟ اس کے لئے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر اعلان فرما دیا کہ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورُ وَ كِتُبُ مُّبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلام 5 یعنی اے لوگو! تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھے تم کو یہ پتہ نہیں تھا کہ تم اپنے خدا کی مرضی کو کس طرح پورا کر سکتے ہو اس لئے دنیا میں ہم نے تمہارے لئے ایک مدرسہ بنا دیا ہے مگر خالی مدرسہ کام نہیں دیتا جب تک کتابیں نہ ہوں۔پس فرمایا قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللهِ نُورُ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ خدا کی طرف سے تمہاری طرف ایک نور آیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور اس کے ساتھ ایک کتاب مبین ہے، ایسی کتاب جو ہر قسم کے مسائل کو بیان کرنے والی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے امن کا مدرسہ بھی قائم کر دیا ، امن کا کورس بھی مقرر کر دیا اور مدرس امن بھی بھیج دیا۔مدرس امن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور امن کا کورس وہ کتاب ہے جو یھدِی بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلْمِ کی مصداق ہے۔جو شخص خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس کتاب کو پڑھے اس میں جس قدر سبق ہیں وہ سُبُلَ السّلمِ یعنی سلامتی کے راستے ہیں اور کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں جس پر عمل کر کے انسانی امن بر باد ہو سکے۔ایک بالا ہستی کا وجود ہمارے ارادوں کو درست کرتا ہے، مدرسہ کا قیام ہماری عملی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اس کتاب کی عملی تفسیر ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ میرے ذریعہ خدا تعالیٰ نے وہ کتاب بھیج دی ہے جس میں وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جن سے امن حاصل ہوسکتا ہے۔اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ یہ امن جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کس کے لئے ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَمٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصطفى 6 یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو کہہ الْحَمْدُ لِلَّهِ سب تعریف اُس اللہ کے