سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 439

سيرة النبي عمال 439 جلد 4 انہیں جرمانہ کیا ہے اور ان کا وظیفہ بند کر دیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس گورنر پر بڑی ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا لبید نے تو ہم کو سبق دیا ہے اور بتایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد شعر و شاعری سب ختم ہو گئی اور اب جو کچھ ہے قرآن ہی ہے مگر تم نے بجائے انہیں کوئی انعام دینے کے الٹا ان کا وظیفہ بند کر دیا ہم حکم دیتے ہیں کہ ان کا وظیفہ دگنا کر دیا جائے۔حقیقت یہی ہے کہ جو کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس کے آنے کے بعد دنیا کی تمام تر توجہ کا مرکز تعلیمی لحاظ سے وہ کلام ہو گیا جو آپ لائے اور نمونہ کے لحاظ سے آپ کی ذات ہوگئی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ دنیا کے لئے اسوہ تھے اور آپ کے وجود ہی کو دنیا اپنے آگے رکھ کر چل سکتی تھی۔اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ذریعہ نہ تھا۔یہ مضمون جو اس وقت میرے سامنے ہے اتنے پہلوؤں پر مشتمل ہے کہ کسی ایک تقریر یا مضمون میں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ ایک سمندر ہے اور اتنا وسیع مضمون ہے کہ کئی سالوں تک اس کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کی جاسکتی ہیں پس یہ تو ناممکن ہے کہ کوئی ایسا مضمون بیان کیا جائے جس میں بالاستیعاب تمام باتیں آجائیں ہاں اصولی طور پر چند باتیں بیان کی جا سکتی ہیں اس لئے میں بھی اصولی رنگ میں چند باتیں اس عنوان کے متعلق بیان کر دیتا ہوں۔امن ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے دنیا ہمیشہ کوشش کرتی چلی آئی ہے۔یا تو دنیا بیرونی امن کے لئے جدو جہد کرتی ہے یا جب بیرونی امن کے لئے جدو جہد نہیں کر رہی ہوتی یا اس میں کامیاب ہو چکی ہوتی ہے تو اندرونی امن کے لئے جدو جہد کرتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے دولتمند اور عالم و فاضل جب آپس میں ملتے ہیں تو ان کی گفتگو کا موضوع اکثر یہی ہوتا ہے کہ اور تو ہمیں سب کچھ میسر ہے مگر دل کا امن نصیب نہیں۔پس امن صرف بیرونی ہی نہیں ہوتا بلکہ دل کا بھی ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک دل کا امن نصیب نہ ہو اُس وقت تک ظاہری امن کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔مثلاً اس