سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 31
سيرة النبي علي 31 جلد 4 موجودہ زمانہ کی خرابیوں کا علاج رسول کریم علیہ کے ارشادات کی روشنی میں حضرت مصلح موعود نے ایک مضمون یوم التبلیغ کے حوالہ سے تحریر فرمایا جو کہ الفضل 22 اکتوبر 1933ء میں شائع ہوا۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔صلى الله اسلام کے بیرونی دشمن ہی کم نہیں لیکن افسوس کہ اس کے اندرونی دشمن بھی بہت سے پیدا ہو گئے ہیں۔وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں دشمنانِ اسلام کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں اور اپنوں کو غفلت کی نیند سلانے کے درپے رہتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور لوگ رسماً مسلمان رہ جائیں گے۔اسلام اور قرآن کریم کے آثار مٹ جائیں گے اور قرآن کریم کے صرف لفظ باقی رہ جائیں گے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی روحانی ذریت میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو اسلام کی عظمت کو از سرِ نو قائم کرے گا اور ایمان اور قرآن کو دوبارہ واپس لا کر تجدید دین کی بنیاد رکھے گا۔اُس وقت علماء دنیا میں سب۔بد تر مخلوق ہوں گے اور سب سے زیادہ روحانیت سے محروم 1۔اسلام جب شروع ہوا اُس وقت بھی اس کی مسافرانہ حیثیت تھی کہ نہ اس کا کوئی مکان تھا نہ گھر نہ وطن نہ ملک اور آخری زمانہ میں بھی اس کا یہی حال ہو گا کہ وہ بے وطن اور بے دیار ہو جائے گا اور مسافرانہ حیثیت سے ادھر ادھر پھرے گا کوئی اسے اپنے گھر رکھنے پر تیار نہ ہو گا 2۔ان حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں پر ایسا