سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 428
سيرة النبي عليه 428 جلد 4 دیکھ کر ہی کوئی شخص سمجھ جائے کہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے اور وہ مجھے کھانے کے لئے کچھ دے دے۔اتنے میں حضرت ابو بکر وہاں سے گزرے اور میں نے ان کے سامنے ایک آیت پڑھی جس میں غریبوں کی خبر گیری کرنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے اور عرض کیا کہ اس کے ذرا معنی کر دیں۔انہوں نے اس آیت کے معنی کئے اور آگے چل دیئے۔اس واقعہ کا ان کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ باوجود یکہ جس زمانہ میں انہوں نے یہ بات سنائی اُس وقت رسول کریم یہ بھی فوت ہو چکے تھے اور حضرت ابو بکر" بھی فوت ہو چکے تھے اور حضرت عمرؓ کا زمانہ تھا پھر بھی وہ اُس وقت غصہ سے کہنے لگے۔ہوں! گویا مجھے اس آیت کے معنے نہیں آتے تھے اور حضرت ابوبکر کو زیادہ آتے تھے۔میں نے تو یہ آیت ان کے سامنے اس لئے پیش کی تھی کہ میری شکل دیکھ کر انہیں میری طرف توجہ پیدا ہو مگر انہوں نے معنی کئے اور آگے چل دیئے۔پھر حضرت عمر گزرے اور ان کے سامنے بھی میں نے یہی آیت پیش کی انہوں نے بھی اس کے معنی کئے اور آگے چل پڑے۔حضرت ابو ہریرہ پھر بڑے غصہ سے کہتے ہیں ہوں ! گویا مجھے اس آیت کے معنی نہیں آتے تھے اور حضرت عمر زیادہ جانتے تھے۔میں نے تو اس لئے آیت ان کے سامنے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ جاتے کہ میں بھوکا ہوں مگر وہ معنی کر کے آگے چل پڑے۔اسی حالت میں میں حیران کھڑا تھا کہ پیچھے سے ایک نہایت محبت بھری آواز آئی کہ ابو ہریرہ ! میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم ﷺ کھڑے تھے۔آپ نے مجھے فرمایا معلوم ہوتا ہے تمہیں بھوک لگی ہے۔گویا رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کی پیٹھ میں سے وہ چیز دیکھ لی جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ابو ہریرہ کے منہ سے نہیں دیکھ سکے تھے۔پھر آپ نے فرمایا ادھر آؤ۔حضرت ابو ہریرہ گئے تو صلى الله رسول کریم علے دودھ کا ایک پیالہ لے کر باہر نکلے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں دودھ دیکھ کر میں بڑا خوش ہوا اور سمجھا کہ اب اکیلا اسے خوب سیر ہو کر پیوں گا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ ! مسجد میں جاؤ اور اگر کوئی اور بھی بھوکا ہو تو اسے بلا :