سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 406

406 جلد 4 سيرة النبي عمال بھی دیئے ہیں اور الحق کے کمالات بھی دیئے ہیں اور یعقوب کے کمالات بھی دیئے اور یعقوب کی اولاد کے کمالات بھی دیئے ہیں اور عیسی کے کمالات بھی دیئے ہیں اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کے کمالات بھی دیئے ہیں اور داؤد کو جوز بور ملی تھی وہ بھی ہم نے تجھے دی ہے۔اور جو موستی سے ہم نے خاص طور پر بالمشافہ کلام کیا تھا وہ انعام بھی ہم نے تجھے دیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ محمدی وحی موسٹی اور دوسرے نبیوں کی وحی کی جامع ہے۔اس میں وہ خوبی بھی ہے جو نوٹ اور دوسرے انبیاء کی وحی میں تھی اور پھر موسٹی کی وحی کی طرح اس میں کلام لفظی بھی ہے بلکہ اس میں موسوی وحی سے بھی ایک زائد بات یہ ہے کہ موسی پر جو کلام اتر تا تھا اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے الفاظ میں لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔جیسے ہم کسی کو کہیں کہ تم جاؤ اور فلاں شخص سے کہو کہ زید کو بخار چڑھا ہوا ہے تو بالکل ممکن ہے کہ وہ جائے اور زید مثلاً اس کا بھائی یا باپ ہو تو بجائے یہ کہنے کے کہ زید کو بخار چڑھا ہوا ہے یہ کہہ دے کہ میرے بھائی یا باپ کو بخار چڑھا ہوا ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گولفظی کلام اترتا تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے الفاظ میں اسے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چونکہ ترقی اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور اب ایک ایسی شریعت نازل ہوئی تھی جو آخری اور جامع شریعت تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس وحی کے الفاظ بھی محفوظ رکھے جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنُهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ 12 کہ موسیٰ کے زمانہ میں تو کلام ہم نازل کرتے تھے اور پھر وہ اپنے الفاظ میں اس کلام کا مفہوم لکھ لیتا تھا اور گو مفہوم ہمارا ہی ہوتا تھا مگر الفاظ موسیٰ کے ہو جاتے تھے لیکن تیرے ساتھ ہمارا یہ طریق نہیں بلکہ اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارا کا ہے۔جو ہم کہیں وہی لفظ پڑھتے جانا اور پھر اُسے لکھ لینا ، اپنے پاس سے اس کا ترجمہ نہیں کرنا۔اسی طرح فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ 13 ہم