سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 405

سيرة النبي عمال 405 جلد 4 کا جو جواب دیا وہ اجمالی جواب ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنا آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دکھا دیا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ نہیں دکھایا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک موقع پر بھی خدا تعالیٰ سے یہ نہیں کہا کہ خدایا ! تو مجھے اپنا وجود دکھا بلکہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ ہم نے اسے اپنا چہرہ دکھا دیا۔پس موسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو صرف ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا مگر رسول کریم ﷺ کے متعلق خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی و کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم اس طرح آمنے سامنے کھڑے ہو گئے جس طرح ایک کمان دوسری کمان کے مقابل پر کھڑی ہوتی ہے اور ان کا ہر سرا دوسرے سرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور اتنے قریب ہوئے کہ جس طرح کمان کی دو نو کیں آمنے سامنے ہوتی ہیں اسی طرح میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم آمنے سامنے ہو گئے اور ہم دونوں میں اتصال ہو گیا۔گویا جس امر کا موسی نے مطالبہ کیا تھا اُس سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی دکھا دیا۔(3) تیسرا امتیاز اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسی پر یہ بخشا ہے کہ حضرت موسی کی نسبت تو یہ آتا ہے کہ كَلَّمَ اللهُ مُوسى تَحْلِیما 10 اور آنحضرت ﷺ کی نسبت فرماتا ہے اِنَّا اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّنَ مِنْ بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْراهِيمَ وَاسْمُعِيلَ وَإِسْحَقَ وَ يَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيْسَى وَاَتُوْبَ وَيُونُسَ وَهُرُونَ وَسُلَيْمَنَ وَأَتَيْنَا دَاوُدَ زَبُوْرًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنُهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُم عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكلِيْمًا 11 یعنی اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تیری طرف نوح جیسی وحی بھی نازل کی ہے اور ان تمام نبیوں جیسی وحی بھی جو اس کے بعد ہوئے۔اور ہم نے تجھ کو ابراہیم کے کمالات بھی دیئے ہیں اور اسمعیل کے کمالات