سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 403

سيرة النبي عمال 403 جلد 4 آگیا اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ تو دنیا سے کہہ دے کہ توحید کامل کے علمبر دار ہونے کا مقام مجھے بھی عطا ہوا ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے قُلْ إِنَّنِي هَدينى رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ 4 لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا نے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دی ہے اس راستہ کی طرف جو ابرا ہیمی طریق ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔اس جگہ مشرک کے معنی عام مشرک کے نہیں ہیں بلکہ ایسے شخص کے ہیں جو اپنے دل و دماغ کی طاقتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگائے اور اسے پورا تو کل حاصل نہ ہو۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے طریق پر چلایا ہے تو سوال ہوسکتا تھا کہ ابراہیم نے تو اپنی تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے سپرد کر دی تھیں اور جب انہیں کہا گیا تھا کہ اسلم تو انہوں نے کہہ دیا تھا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ۔کیا آپ نے بھی یہی کچھ کہا ہے؟ تو فرماتا ہے کہ کہہ دے کہ وہی کام میں نے بھی کیا ہے اور میری نماز اور میرا ذبیحہ اور میری زندگی اور میری موت سب رب العلمین کے لئے ہوگئی ہیں اور میں اس طرح خدا تعالیٰ کا بن گیا ہوں کہ اب میرے ذہن کے کسی گوشہ میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال باقی نہیں رہا۔غرض یہاں لَا شَرِيكَ لَهُ سے مراد کامل توحید کا اقرار ہے اور آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تو کہہ دے کہ اس اعلیٰ تعلیم پر چلنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا ہے۔یعنی میں ابراہیمی تعلیم پر نقل کے طور پر نہیں چل رہا بلکہ مجھے وہ تعلیم براہِ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔اور پھر فرمایا کہ تم لوگ تو اس شبہ میں ہو کہ میں ابراہیمی مقام پر ہوں یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں ابراہیم کے مقام سے بھی آگے نکل گیا ہوں اور میں کہتا ہوں اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ کہ پہلا مسلم میں ہوں یعنی ابراہیم بھی اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ کہنے والا تھا اور میں بھی