سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 399
سيرة النبي عمال 399 جلد 4 آہٹ پاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔اُس نے جب آپ کو جاگتے دیکھا تو تلوار سونت کر کہنے لگا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے لیٹے لیٹے ایک اطمینان اور یقین سے فرمایا کہ اللہ۔اللہ کا لفظ لوگ ہزاروں دفعہ استعمال کرتے ہیں مگر کون ہے جس کے الفاظ میں وہ اثر ہو جو رسول کریم ﷺ کے الفاظ میں تھا۔آپ نے جس یقین اور وثوق سے یہ لفظ استعمال کیا وہ تلوار سے زیادہ تیزی کے ساتھ اس کے دل میں اتر گیا اور اس کا ایسا اثر اس پر پڑا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم علے نے فوراً وہ تلوار اٹھ کر پکڑ لی اور پھر اُس کے سر پر تلوار کھینچ کر فر ما یا بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے جواب دیا آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا اے نادان! تو نے پھر بھی سبق حاصل نہ کیا۔کم از کم مجھ سے سن کر ہی تو یہ کہ دیتا اللہ مجھے بچائے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یا تو وہ رسول کریم کے کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا اور یا وہیں مسلمان ہو گیا3۔تو دل سے نکلی ہوئی جو بات ہو اس کا رنگ بالکل اور قسم کا ہوا کرتا ہے لیکن اگر کسی کو اپنی بات پر ہی یقین نہ ہو تو اس ( الفضل 2 جنوری 1938ء) 66 نے اثر کیا کرنا ہے۔“ 1: السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 صفحه 392 تا 396 مطبوعہ دمشق 2005 ء 2: الحديد : 17 3: البداية والنهاية الجزء الرابع صفحه 86 87 مطبوعہ قاهرة 2006ء عروسة