سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 392

سيرة النبي عمال 392 جلد 4 وسعت نظر آتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور دوسری طرف اختصاراً کلام فرماتے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جب آپ سخاوت کرتے تو انتہا درجہ کی حتی کہ صحابہ کا بیان ہے کہ آپ بالخصوص رمضان میں اس طرح سخاوت کرتے کہ جس طرح تیز آندھی چلتی ہے 4۔اور پھر اس کے ساتھ ہی لَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا 5 پر آپ کا عمل تھا۔یعنی سخاوت کو فضول اور رائیگاں نہ گنواتے اور نہ بے محل استعمال کرتے۔حاتم طائی کی سخاوت تو تھی مگر بے محل کیونکہ وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ والی سخاوت تھی۔باپ کے مال پر اُس کا کیا حق تھا کہ اُسے تقسیم کر دیتا۔اس کے مقابل پر آنحضرت ﷺ ایک طرف تو آپ اس قدرسخی تھے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان کے دنوں میں آپ اس طرح سخاوت کرتے کہ گویا تیز آندھی چل رہی ہے۔مگر دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک دفعہ آپ کی عزت کی اور کہا کہ آپ پانچ آدمیوں کو ساتھ لے آئیں۔آپ نے پانچ آدمیوں کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کی طرف چلے۔رستہ میں ایک چھٹا آدمی ساتھ شامل ہو گیا۔بعض طبائع بے تکلف ہوتی ہیں اور ایسے لوگ خود بخو د ساتھ ہو جایا کرتے ہیں۔جب آپ اس شخص کے دروازے پر پہنچے تو فرمایا کہ اس نے صرف پانچ آدمیوں کی اجازت دی تھی ، چھ کی نہیں۔گویا جب دوسرے کے حق کا سوال پیدا ہوا تو آپ نے اس قدر احتیاط کی۔یوں تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمی کھا سکتے ہیں مگر اُس وقت یہ نہیں فرمایا کہ پانچ کا کھانا چھ کھا لیں گے کیونکہ یہاں سخاوت کا نہیں بلکہ دوسرے کے حق کا سوال جب آپ قضا فرماتے تو یہی نظر آتا تھا کہ آپ بہترین قاضی ہیں اور ساری توجہ آپ کی اسی کام کی طرف ہے۔لیکن جب تدریس فرماتے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا سارا میلان اسی کی طرف ہے اور آپ بہترین مدرس ہیں۔پھر جب آپ تربیت فرماتے تو یہی معلوم ہوتا کہ آپ بالکل ایسے ہیں جیسے تربیت کرنے والے اور بورڈنگوں وغیرہ کے افسر ہوتے ہیں اور گویا آپ صرف مربی ہیں۔پھر جب مجلس میں