سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 386
سيرة النبي علي 386 جلد 4 بھی فلاں گناہ کیا سخت ظلم ہے۔پھر رسول کریم اللہ نے دنیا کے ہر گنہگار پر احسان کیا اور اس کے دل کو خوشی سے لبریز کر دیا۔رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے ساری دنیا یہ کہا کرتی تھی کہ گنہگار ہمیشہ کے لئے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو شخص ایک دفعہ جہنم میں چلا گیا پھر وہ وہاں سے نہیں نکل سکے گا۔گویا دنیا گنہ گاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کرتی تھی اور توبہ کا دروازہ اس پر بند بتلاتی تھی۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسان کتنا ہی گنہگار ہو جائے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔بیشک گنہگاروں کے گناہ بہت بڑے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا رحم اس سے بھی بڑا ہے۔پس تم اس بات سے مت گھبراؤ کہ تم گناہوں میں ملوث ہو، تم تو بہ کرو کہ خدا آج بھی تمہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔کتنی امید ہے جو گنہگاروں کے دلوں میں رسول کریم ﷺ نے پیدا کر دی۔کتنی امنگ ہے جو آپ نے ان کے قلوب میں پیدا کر دی۔غرض رب العلمین کی صفت اعلیٰ درجہ کے کمال کے ساتھ محمد مے میں ظاہر ہوئی اور ان سے اتر کرامت محمد یہ کے اور بہت سے اولیاء وصلحاء میں ظاہر ہوئی اور ظاہر ہوتی رہتی ہے۔“ 1: السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 صفحه 312 مطبوعہ دمشق 2005 ء 2 تذکرہ صفحہ 53 ایڈیشن چہارم 2004 ء 3: موضوعات کبیر۔ملا علی قاری صفحہ 59 مطبوعہ دہلی 1346ھ الله (الفضل 4 دسمبر 1937 ء ) 4: بخارى كتاب المساقاة باب فضل سقى الماء صفحه 380 حدیث نمبر 2364 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية :5 مسلم كتاب الصيد والذبائح باب الامر باحسان الذبح صفحہ 873 حدیث نمبر 5055 مطبوعہ ریاض اپریل 2000 ء الطبعة الثانية 6: مسلم كتاب الصيد والذبائح باب النهي عن صبر البهائم صفحہ 873 حدیث نمبر 5057