سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 382

سيرة النبي عمال 382 جلد 4 کے بھی بہت سے حقوق ہیں جو مردوں کو ادا کرنے چاہئیں۔پھر ہر شعبہ زندگی میں عورت کی ترقی کے راستے آپ نے کھولے۔اسے جائیداد کا مالک قرار دیا ، اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھا، اس کی تعلیم کی نگہداشت کی ، اس کی تربیت کا حکم دیا اور پھر فیصلہ کر دیا کہ جس طرح جنت میں مرد کے لئے ترقیات کے غیر متناہی مراتب ہیں اسی طرح جنت میں عورتوں کے لئے بھی غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔پھر مردوں کی مختلف شاخیں ہیں۔کبھی مرد بحیثیت باپ ہوتا ہے، کبھی مرد بحیثیت بھائی ہوتا ہے، کبھی مرد بحیثیت بیٹا ہوتا ہے اور کبھی مرد بحیثیت خاوند ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کبھی بحیثیت ماں ہوتی ہے، کبھی بحیثیت بیٹی ہوتی ہے، کبھی بحیثیت بہن کے اور کبھی بحیثیت بیوی کے۔پھر مرد کبھی معلم ہوتا ہے کبھی متعلم۔عورت بھی کبھی معلمہ ہوتی ہے اور کبھی متعلمہ۔پھر عورت کبھی دودھ پلانے والی ہوتی ہے اور کبھی دودھ پینے والی۔کبھی مرد دودھ پلوانے والا ہوتا ہے اور کبھی خود دودھ پینے والا یعنی چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔پھر مرد عورت خریدار بھی ہوتے ہیں اور بیچنے والے بھی ہوتے ہیں۔وہ محنت کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور مزدوری دینے والے بھی ہوتے ہیں۔معاہدہ کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور معاہدہ لینے والے بھی ہوتے ہیں۔حاکم بھی ہوتے ہیں اور محکوم بھی ہوتے ہیں۔غرض ہر قسم کی زندگی مردوں سے بھی تعلق رکھتی ہے اور عورتوں سے بھی۔ان تمام شعبوں میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ مردوں کو بھی احکام دیے اور عورتوں کو بھی۔پھر انسانوں میں قوموں ، مذہبوں اور حکومتوں کے تفاوت کے لحاظ سے اختلاف ہوتا ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔مگر جہاں گھمسان کی لڑائی الله ہو رہی ہوتی ہے، جہاں کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا وہاں محمد ﷺ کے ذریعہ یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ بے شک میرے ماننے والے مسلمان ہیں اور نہ ماننے والے کا فر مگر دیکھو میں رب العلمین کا مظہر ہوں۔دیکھنا ! ان کفار میں سے کسی عورت کو نہ مارنا ، دیکھنا !