سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 375
سيرة النبي علي 375 جلد 4 جنگ بدر میں رسول کریم ﷺ کی نصرت صلى الله حضرت مصلح موعود 12 نومبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔اصل حقیقت یہی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے صرف ظاہری آلہ بنایا ہے ورنہ اصل آلۂ کار جس سے اُس نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور ہے۔ہماری مثال ویسی ہی ہے جیسے محمد ﷺ نے کنکر اٹھا کر بدر کے دن پھینکے تھے۔اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى 1 کہ یہ تمہارا کنکر پھینکنا، تمہارا کنکر پھینکنا نہیں بلکہ خدا کا کنکر پھینکنا ہے۔اگر یہ کنکر تم پھینکتے تو ان کنکروں کا کیا تھا، تھوڑی دور جا کر یہ زمین پر گر پڑتے مگر یہ تم نے کنکر نہیں پھینکے بلکہ ہم نے پھینکے۔ادھر تمہارا ہاتھ ہلا اُدھر ہم نے آندھی کو بھی ساتھ ہی چلا دیا اور اُس نے کروڑوں کروڑ اور اربوں ارب اور کنکر اٹھا کر کفار کی آنکھوں میں ڈال دیئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کفار بالکل حملہ نہ کر سکے۔کیونکہ جو سوار سامنے کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتا اس نے دشمن کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔غرض سب حالات کو دیکھ کر ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ہماری حیثیت بدر کے ان کنکروں کی سی ہے جنہیں محمد ﷺ نے اپنی مٹھی میں لیا اور کفار کی طرف پھینکا۔اُن کنکروں نے کفار کو اندھا نہیں کیا تھا جو رسول کریم ﷺ نے پھینکے بلکہ اُن کنکروں نے کفار کو اندھا کیا جو خدا تعالیٰ نے آندھی کے ذریعہ اڑائے۔پس ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے سوا کوئی اور آلہ ہے جس نے کام کرنا ہے اور کوئی اور سامان پیدا کئے گئے ہیں جنہوں نے اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے اور وہ آلہ اور وہ ہتھیار جن سے دنیا پر اسلام کو غالب کیا جاسکتا ہے بندے کی وہ دعائیں ہیں جو