سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 358
سيرة النبي علي 358 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی سیرت صلح حدیبیہ کی روشنی میں وو حضرت مصلح موعود 27 اگست 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دیکھ لو صلح حدیبیہ کی مثال بالکل واضح ہے۔صلى الله رسول کریم علیہ نے رویا میں دیکھا کہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔چونکہ وہ حج کا وقت نہیں تھا آپ نے عمرہ کی نیت کی اور صحابہ کو بھی اطلاع دی۔چلتے چلتے آپ کی اونٹنی حدیبیہ کے مقام پر بیٹھ گئی اور زور لگانے کے باوجود نہ اٹھی۔آپ نے فرمایا کہ اسے خدا تعالیٰ نے بٹھا دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ ہم آگے نہ جائیں 1۔مسلمانوں کی آمد دیکھ کر کفار نے بھی اپنا لشکر جمع کرنا شروع کیا کیونکہ وہ یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان طواف کریں۔رسول کریم ﷺ ان کے آدمیوں کی انتظار میں تھے کہ آئیں تو شاید کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ان کی طرف سے مختلف نمائندے آئے اور آخر کار صلح کا فیصلہ ہوا۔شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اس وقت واپس چلے جائیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر اب انہوں نے طواف کرلیا تو ہمارے پرسی ( Prestige) میں فرق آئے گا اس لئے انہوں نے یہی شرط پیش کی کہ اب کے واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کر لیں۔دوسری شرط یہ ہوئی کہ اگر کوئی کافر مسلمان ہو کر رسول کریم ﷺ کے پاس آجائے تو آپ اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جانا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہوگی۔بظاہر یہ شرطیں بڑی کمزور شرطیں تھیں اور پھر جس وقت آپ نے اس شرط کو منظور کر لیا اُسی وقت ایک مسلمان جس کے ہاتھوں اور پاؤں میں کڑیاں اور